میں رغبت بھی رکھتے ہیں اور اسے کھانا بھی چاہتے ہیں مگر اپاہج ہونے کی وجہ سے کھا نہیں سکتے،اس لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندے کے لئے قدرت رکھنے اور حرکت کرنے والے اعضاء کو پیدافرمایاتا کہ اس کے ذریعے فعْلِ طَعام پورا ہواور اعضاء قدرت کے بغیر حرکت نہیں کرتے اور قدرت ارادے کی منتظر رہتی ہے اور ارادہ علم ومعرفت یا ظن و اعتقاد کا منتظر رہتا ہے یعنی دل میں یہ بات پختہ ہو جائے کہ وہ چیز اس کے موافق ہے۔ جب چیز کے موافق ہونے کی معرفت پختہ ہوجائے تو اس کا کرنا ضروری ہے اور اس سے پھیرنے والا کوئی اور مانع نہ ہوتو ارادہ برانگیختہ ہوتا اور میلان ثابت ہوتا ہے ،توجب ارادہ برانگیختہ ہوتا ہے تو قدرت اعضاء کو حرکت دینے کے لئے تیار ہوجاتی ہے،پس قدرت ارادے کی خادمہ اورارادہ اعتقاداورمعرفت کے تابع ہے۔
خلاصَۂ کلام:
نیت صِفَتِ مُتَوسِّطہ کا نام ہے یعنی ارادہ اور غرض کے موافق خواہ ابھی یا مستقبل میں چیز کی طرف رغبت اور میلان کی وجہ سے نفس کا برانگیختہ ہونا۔تو پہلا محرک غرض ہے جو مطلوب ہوتی ہے اور اسے باعث (سبب) بھی کہتے ہیں اوریہ غرض اور باعث ہی وہ مقصد ہے جس کی نیت کی گئی ہے اور برانگیختگی قصد اور نیت ہے اور قدرت کا اعضاء کوحرکت دینے کی صورت میں ارادے کی خدمت کے لئے بر انگیختہ ہونے کو عمل کہتے ہیں مگر قدرت کا عمل کے لئے برانگیختہ ہونا کبھی ایک باعث کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی اس کے دو باعث ہوتے ہیں جوایک ہی فعل میں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور جب اس کے باعث دو ہوں تو بعض اوقات ہر ایک باعث قدرت کو برانگیختہ کرنے پر قادر ہوتا ہے اور بعض اوقات قاصر جب تک کہ دوسرے کا اجتماع نہ ہوجائےاور بعض اوقات ایک بھی کافی ہوتا ہے لیکن دوسرا اس کے لئے مُعاوِن ومددگارہوتا ہے۔پس اس تقسیم سے چار اقسام حاصل ہوئیں ہم ان میں سے ہر ایک کی مثال اور نام بیان کرتے ہیں:
٭…پہلی قسم:باعث ایک اور اکیلا ہو۔مثال کے طور پر کوئی درندہ انسان پر حملہ کر ے تو جب یہ اسے دیکھے گا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوگا اور اس کا مُحَرِّک سوائے درندے سے بھاگنے کی غرض کے اور کوئی نہیں کیونکہ اس نے درندے کو دیکھ کر مُضِر(نقصان دہ)جانا تو اس کے نفس میں بھاگنے کی رغبت پیدا ہوئی اور اس رغبت کے نتیجے میں قدرت عمل کے لئے بر انگیختہ ہوئی ،پس کہا جائے گا کہ اس کی نیت درندے سے بھاگنے کی ہے اس کے