Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
224 - 784
 انسان اسی چیز کا ارادہ کر سکتا ہے جس کا علم ہولہٰذا علم کا ہونا ضروری ہے اور ارادے کے بغیرعمل نہیں کرسکتا لہٰذا ارادہ بھی ضروری ہےاور ارادے کا معنیٰ یہ ہے کہ دل اس چیز کی طرف برانگیختہ ہوجسے وہ اپنی غرض کے موافق سمجھے خواہ ابھی یا مستقبل میں۔
ہدایت و معرفت کی تخلیق کاسبب:
	انسان کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ بعض امور اس کے موافق اور اس کی غرض کے مناسب ہوتے ہیں اور بعض اس کے مخالف ہوتے ہیں اس لئے یہ مناسب اور موافق چیزوں کو اپنی طرف کھینچنے اور باعِثِ ضَرَر اور نفس کے منافی باتوں کو دور کرنے کا محتاج ہے ،اسی لئے مضر اور مفید(نقصان دہ اور فائدہ مند) چیزوں کی پہچان  اور ادراک ضروری ہے تا کے مفید چیزوں کو حاصل کر سکے اور مضر اشیاء سے بچ سکےکیونکہ جو شخص غذا کو دیکھ نہ  سکتاہو ا ور نہ ہی اس کی پہچان ہوتو اس کے لئے غذا کھاناممکن نہیں اور جو شخص آگ کو نہیں دیکھتا اس کے لئے آگ سے بھاگناممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ہدایت ومعرفت کو پیدا کیا اور ان کے اسباب بنائے یعنی حواسِ ظاہری و باطنی پیداکئے اس وقت یہ ہمارا موضوعِ بحث نہیں ہیں۔
رغبت و ارادے کی تخلیق کاسبب:
	پھر اگر بندہ غذاکو دیکھ اور پہچان لے کہ یہ اس کے موافق ہے تو اتنی بات کھانے کے لئے کافی نہیں جب تک بندے کا اس کی طرف میلان ،رغبت اور اس کی طرف برانگیختہ کرنے والی خواہش نہ ہوکیونکہ مریض غذا کو دیکھتا اورجانتا ہے کہ یہ اس کے موافق ہے لیکن اس کی طرف رغبت ومیلان نہ ہونے اور قوتِ مُحَرِّکہ مفقود ہونے کی وجہ سے اس کے لئے  کھانا ممکن نہیں ہوتا،اس لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے بندے کے لئے میلان،رغبت اور ارادے  کو پیدا کیا اور میری مراد اس سے یہ ہے کہ بندے کے نفس میں چیز کی طرف ایک اشتیاق اور اس کے دل میں ایک توجہ اس چیز کی رکھ دی۔
قدرت رکھنے اور حرکت کرنے والے اعضاء کی تخلیق کا سبب:
	پھرکھانے کے لئے رغبت و ارادہ بھی کافی نہیں،کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کھانے کو دیکھتے ہیں اس