تو روتے ہوئے اسے باربار پڑھتے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے:اگر تو نے ہماری جانچ کی تو ہم ذلیل و رسوا ہو جائیں گے۔
)11(…حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:نیتوں کی وجہ سے ہی جنتی ہمیشہ جنت میں اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
عمل کے تھوڑااور زیادہ ہونے کا معیار:
)12(…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:تورات شریف میں ہے کہ جو عمل میری رضا کی خاطر کیا جائے وہ تھوڑا بھی بہت ہے اور جس عمل سے غَیْرُاللہ کی رضامقصود ہو وہ زیادہ بھی کم ہے ۔
سب کام نیت پر موقوف ہیں:
)13(…حضرت سیِّدُنا بلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتے ہیں:بے شک کوئی بندہ،(کامل)مومن جیسی کوئی بات کرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اوراس کے قول کو اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اس کے عمل کو نہیں دیکھ لیتا اور جب بندہ عمل کر لے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس وقت تک اس کے عمل کونہیں چھوڑتا جب تک اس کی وَرَع(پرہیزگاری) کو نہ دیکھ لے،جب وہ پرہیزگاری اختیار کرلیتا ہے تواسےاس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ اس کی نیت کیا ہے،اگر اس کی نیت درست ہوئی تو باقی سب کام بھی درست ہوں گے۔
معلوم ہواکہ اعمال کا سُتُون نیتیں ہیں۔عمل نیت کا محتاج ہے تاکہ اس کی وجہ سے بہتر ہوجائے جبکہ نیت بذاتِ خودخیر(بھلائی)ہے اگرچہ کسی مانع(رکاوٹ)کی وجہ سے عمل دشوار ہوجائے۔
دوسری فصل: نیت کی حقیقت
جان لو!نیت،ارادہ اور قصد ایک ہی معنیٰ پر دلالت کرنے والے مترادف الفاظ ہیں اور وہ ایک قلبی حالت اور صفت ہے جسے علم اورعمل نے گھیررکھا ہے۔علم اس سے پہلے ہوتا ہے کیونکہ اس حالت کی اصل اور شرط علم ہی ہے،جبکہ عمل اس کے تابع ہوتا ہے کیونکہ یہ اس حالت کا ثمرہ اور اس کی فرع ہے اس لئے کہ ہر عمل یعنی ہر حرکت اور سکونِ اختیاری علم ،ارادہ اورقدرت تین چیزوں سے پورا ہوتا ہے،وجہ یہ ہے کہ