)14(…جب دو صفوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوتی ہے تو فَرِشتے نازل ہوتے ہیں اور مخلوق کو درجہ بدرجہ لکھتے ہیں کہ فلاں دنیا کے لئے لڑتا ہے، فلاں غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے، فلاں عَصَبِیت(رشتہ داری) کی بنا پر لڑتا ہے،خبر دار یہ مت کہو کہ فلاں راہِ خدا میں ماراگیا کیونکہ جو شخص دین کی سر بلندی کے لئے لڑتا ہے وہی راہِ خدا میں لڑنے والا ہے۔(1)
)15(…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہیعنی ہر بندہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا۔(2)
قاتل اور مقتول دونوں جہنمی:
)16(…حضرت سیِّدُناابوبَکْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورپرنور،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِذَاالْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْھِمَافَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِقِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَاالْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ لِاَنَّـہٗ اَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖیعنی جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑیں توقاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گےعرض کی گئی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!قاتل کے جہنم میں جانے کی وجہ تو ہم سمجھ گئے لیکن مقتول کس سبب سے جہنم میں جائے گا؟تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرمایا:اس لئے کہ اس نے اپنے مدمقابل کو مارنے کا ارادہ کیا تھا۔(3)
وہ چور ہے:
)17(…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی حدیث میں ہے:مَنْ تَزَوَّجَ اِمْرَاَةً عَلٰی صِدَاقٍ وَّھُوَ لَایَنْوِی اَدَائَہٗ فَھُوَ زَانٍ وَّمَنْ اَدَانَ دَیْنًا وَّھُوَ لَایَنْوِی قَضَائَہٗ فَھُوَ سَارِقٌیعنی جس نے کسی عورت سے مہر کی مخصوص مقدار پر نکاح کیالیکن اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن المبارک، باب العمل والذکر الخفی،ص۴۶، حدیث:۱۴۲
بخاری، کتاب العلم، باب من سال وھو قائم عالما جالسا،۱/ ۶۵،حدیث:۱۲۳
2…مسلم، کتاب الجنة، باب الامر بحسن الظن باللّٰہ عند الموت،ص۱۵۳۸، حدیث:۲۸۷۸
3…بخاری، کتاب الایمان، باب :وان طائفتان من المؤمنین…الخ،۱/ ۲۴،حدیث:۳۱
سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب اذا التقی المسلمان بسیفھما،۴/ ۳۳۸،حدیث:۳۹۶۴