وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے :’’اِنَّ اللہَ جَمِیۡلٌ یُّحِبُّ الۡجَمَالَیعنی بیشکاللہعَزَّ وَجَلَّجمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ “(1)
چوتھا سبب:ظاہری یاباطنی جمال
ہراس شے سے محبت کرنا جس کی ذات میں حُسْن وجمال پایا جاتا ہو خواہ ظاہری صورت میں ہو یا باطنی صورت میں ۔جان لیجئے کہ جو لوگ خیالات اور محسوسات کے دائرے میں بند ہیں وہ حُسن و جمال کا یہی مطلب سمجھتے ہیں کہ شکل و صورت متناسب ہو،رنگ خوبصورت اور سرخی مائل سفید ہواوردراز قد وغیرہ صفات جن سے ذاتِ انسانی کے جمال کو بیان کیا جاتا ہے کیونکہ مخلوق پر وہی حسن غالب ہوتا ہے جو آنکھوں سے نظر آئے اور اکثر ان کی توجہ لوگوں کے چہروں کی طرف ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ”جو چیز نظر نہ آسکے یا اس کو خیال میں نہ لایا جاسکے اوروہ شکل اور رنگ بھی نہ رکھتی ہو اس کا حسن ممکن نہیں اور جب اس کا حسن ممکن نہیں تو اس کے ادراک میں لذت بھی نہیں ہوتی لہذا وہ محبوب بھی نہیں ہوسکتا۔“یہ واضح غلطی ہے کیونکہ حسن آنکھ سے ادراک کی جانے والی اشیاء پر منحصر نہیں اور نہ ہی متناسِب پیدائش اور سرخ و سفید رنگ کی آمیزش پر اس کا انحصار ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں: ”یہ خط خوبصورت ہے۔یہ آواز خوبصورت ہے۔ یہ گھوڑا خوبصورت ہے۔“ بلکہ یہاں تک کہتے ہیں:”یہ کپڑا خوبصورت ہے اور یہ برتن خوبصورت ہے۔“ اگر حسن صورتوں میں منحصر ہو تو آواز، خط اور دیگر ایسی چیزوں کے حُسن کا کیا معنی ہوگا؟ اور یہ بات تو معلوم ہے کہ آنکھ اچھے خط کی طرف دیکھنے سے لذت محسوس کرتی ہے اور کانوں کو خوبصورت نغمات سے لذت ملتی ہے ۔
پھر یہ کہ ادراک کی جانے والی جتنی بھی اشیاء ہیں وہ یا تو حَسن ہوں گی یا قبیح تو حَسن کے وہ کون سے معنیٰ ہیں جس میں یہ تمام اشیاء مُشْتَرَک ہیں؟ اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے اور یہ طویل بحث ہے اور علمِ معامَلہ کے شایانِ شان نہیں کہ اس بحث کو طول دیا جائے مگر ہم حق بات کی تصریح کرتے ہوئے کہتے ہیں:”ہرشے کا جمال اور حُسن اِس میں ہے کہ جس قدر کمال اس کے لائق اور اس کے لئےممکن ہے وہ اس میں موجود ہو۔“ تو اگر تمام ممکنہ کمالات اس میں موجود ہوں تو وہ شے کمال کے انتہائی درجہ میں ہوتی ہے اور اگر اس میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الایمان، باب تحرم الکبر وبیانہ،ص۶۱،۶۰،حدیث:۹۱