لَـہٗ فَھَاجَرَرَجُلٌ فَتَزَوَّجَ اِمْرَاَةً مِّنَّا فَکَاَنْ یُّسَمّٰی مُھَاجِرُاُمِّ قَیْسٍیعنی جو شخص کسی چیز کی طلب میں ہجرت کرے تو وہ اسی کے لیے ہے(1) تو ایک شخص نے ہمارے قبیلے کی ایک عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کا نام ہی’’مہاجرِ اُمِّ قَیْس‘‘(یعنی اُمِّ قَیْس کی طرف ہجرت کرنے والے) پڑ گیا۔
قَتِـیْلُ الْحِمَار:
(6)… راہِ خدا میں مارے جانے والے ایک شخص کو’’قَتِیْلُ الْحِمار‘‘کہہ کر پکاراجاتا تھاکیونکہ اس نے ایک شخص سے اس کا سامان اور گدھا لینے کے لئے قتال کیا تھااسی نیت پر وہ مارا گیا تو وہ اپنی نیت کی طرف منسوب ہوا۔(2)
(7)…حضرت سیِّدُناعُبادہ بن صامترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث میں ہے:مَنْ غَزَاوَھُوَلَایَنْوِیْ اِلَّا عِقَالًا فَلَہٗمَانَوٰییعنی جو شخص صرف ایک رسی حاصل کرنے کے لئے لڑا تو اس کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(3)
(8)…حضرت سیِّدُنااُبَیْ بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:میں نے ایک شخص سے مدد چاہی جو میرے ساتھ مل کر جہاد کر رہا تھا تواس نے کہا:جب تک تم میرے لئے کچھ اُجرت مُقَرَّر نہیں کرو گے تومیں تمہاری مدد نہیں کرونگا۔چنانچہ میں نے اس کے لئے کچھ اُجرت مقرر کردی پھر اس کےمتعلق بارگاہِ رسالت میں عرض کی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اس کے لئے دنیاوآخرت میں وہی کچھ ہے جو تم نے اس کے لئے مُقَرَّر کر دیا۔(4)
اچھی نیت کا صلہ:
)9(…اسرائیلی روایت میں ہے کہ ایک شخص قحط کے زمانے میں ریت کے ایک ٹیلے کے پاس سے گزرا تو اس نے اپنے دل میں کہا:اگر یہ ریت غلہ ہوتاتو میں اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس وقت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۹/ ۱۰۳، حدیث:۸۵۴۰
2…قوت القلوب،الفصل الثامن والثلاثون فی الاخلاص…الخ ،۲/ ۲۷۰
3…سنن النسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا فی سبیل اللّٰہ ولم ینو من غزاتہ الا عقالا، ص۵۱۰، حدیث:۳۱۳۶،۳۱۳۵
4…سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فی الرجل یغزو باجر لیخدم،۳/ ۲۴،حدیث:۲۵۲۷