فَرِشتے عرض کرتے ہیں:اے ربّعَزَّ وَجَلَّ!اس نے تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہیں کیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:اس نے ان اعمال کو بجالانے کی نیت کی تھی۔(1)
(3)…لوگ چار طرح کے ہیں:ایک وہ شخص جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے علم اور مال عطا فرمایا، وہ اپنے مال میں اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہےتو دوسرا شخص کہتا ہے:اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اس کی مثل عطا فرماتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔تیسرا شخص وہ ہے جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مال تو دیا ہے لیکن علم عطا نہیں کیا،وہ اپنی جہالت کی وجہ سے مال کو فضول کاموں میں اڑاتا ہے تو چوتھا شخص کہتا ہے: اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اس کی مثل عطا کرتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔(2)
کیا تم نہیں دیکھتےکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صرف نیت کی وجہ سے اچھے اور برے اعمال میں شریک فرما دیا۔اسی طرح
(4)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو ارشادفرمایا:بے شک مدینہ طیبہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ہم نے جس وادی کو طے کیایا جس زمین کو پامال کیا جس سے کفار کو غصہ آئے یا جو مال ہم نے خرچ کیایا ہمیں بھوک پہنچی تو وہ ان سب کاموں میں ہمارے ساتھ شریک رہے ہیں حالانکہ وہ مدینہ میں ہیں۔صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کیسے؟حالانکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔تو ارشادفرمایا:انہیں عذر نے روک لیا تو وہ حُسْنِ نیت کی وجہ سے ہمارے ساتھ شریک ہیں۔(3)
مُہاجِرِاُمِّ قیس:
(5)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی حدیث میں ہے:مَنْ ھَاجَرَ یَبْتَغِیْ شَیْئًا فَھُوَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
المجالسة وجواھر العلم، الجزء السادس والعشرون،۳/ ۲۷۹،حدیث:۳۶۲۸
قوت القلوب،الفصل الثامن والثلاثون فی الاخلاق…الخ،۲/ ۲۷۰
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب النیة،۴/ ۴۸۱،حدیث:۴۲۲۸
3…بخاری، کتاب المغازی، باب رقم۸۳، ۳/ ۱۵۰،حدیث:۴۴۲۳
سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فی الرخصة فی القعود من العذر،۳/ ۱۷،حدیث:۲۵۰۸