جس کی ہجرتاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہی ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کو پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوتو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔(1)
مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اَکْثَرُ شُھَدَآءِ اُمَّتِیْ اَصْحَابُ الْـفُرُشِ وَرُبَّ قَتِیْلٍ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِـنِیَّتِہٖیعنی میری امت کے اکثر شہدا بستر پر مرنے والے لوگ ہونگے اورجہاد میں قتل کئے گئے بہت سے لوگوں کی نیتوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّجانتا ہے(کہ ان کی کیا نیت تھی)۔(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے: اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللہُ بَیۡنَہُمَا ؕ (پ۵،النسآء:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ دونوں اگر صلح کراناچاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کردے گا۔
اس آیتِ طَیِّبَہ میں نیت کو توفیق کا سبَب قراردیاگیا ہے۔
نیت سے متعلق 18احادیث و روایات:
(1)…اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَا یَنْظُرُاِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَاِنَّمَایَنْظُرُاِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْیعنی بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری صورتوں اور تمہا رے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ وہ تو تمہارے دلوں کی طرف نظرفرماتا ہے۔(3)
دلوں کی طرف نظر فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیت کا محل ہیں۔
(2)…بے شک بندہ نیک اَعمال کرتا ہے اور فَرِشتے اس کو مُہر لگے ہوئے صحیفوں میں لے کر اوپر چڑھتے اور بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتے ہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:اس صحیفے کو ڈال دو کیونکہ اس میں جو اعمال ہیں وہ میری رضا کے لئے نہیں کئے گئے۔پھر فَرِشتوں کو حکم ارشادفرماتا ہے:اس بندے کے لئے یہ یہ لکھو۔ تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب النکاح، باب من ھاجر او عمل خیرا…الخ،۳/ ۴۲۳،حدیث:۵۰۷۰
سنن النسائی، کتاب الطھارة، باب النیة فی الوضوء،ص۲۰، حدیث:۷۵
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود،۲/ ۵۳،حدیث:۳۷۷۲
3…مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم ظلم المسلم…الخ،ص۱۳۸۷، حدیث:۲۵۶۴