Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
215 - 784
 اخلاص کی حقیقت سے نا واقف ہے وہ نیت درست کر کے اس میں اخلاص کیسے پیداکرے گا؟اورجب اخلاص کا پیکر شخص صدق کا معنیٰ ہی نہ جانتا ہوتو اپنے نفس سے صدق کا مطالبہ کیسے کرے گا؟لہٰذا جو بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت بجالانے کاارادہ رکھتا ہو اس پر سب سے پہلے نیت کا علم سیکھناضروری ہے تاکہ نیت کی معرفت حاصل ہو ،پھر صدق اور اخلاص کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد نیت کو عمل کے ذریعے درست کرے کیونکہ صدق و اخلاص ہی بندے کی نجات اور چھٹکارے کا سبب ہیں۔پس ہم صدق اور اخلاص کے معانی کو تین ابواب میں بیان کریں گے:(۱)…نیت کی حقیقت اور اس کے معنیٰ کا بیان(۲)…اخلاص اور اس کے حقائق کا بیان(۳)…صدق اور اس کی حقیقت کا بیان۔
باب نمبر1:					نیت کا بیان(اس میں پانچ فصلیں ہیں)
	اس باب میں درج ذیل اُمُورکوبیان کیاجائےگا:(۱)…نیت کی فضیلت(۲)…نیت کی حقیقت(۳)… نیت عمل سے بہتر ہے(۴)…نفس سے متعلق اعمال کی ترجیح(۵)…نیت کا غیر اختیاری ہونا۔
پہلی فصل:				نیت کی فضیلت کا بیان
نیت کی فضیلت سے متعلق آیات،احادیث اور اقوال:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ(پ۷،الانعام:۵۲) ترجمۂ کنز الایمان:اوردورنہ کروانہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔
	اس آیتِ مُقَدَّسَہ میں’’Su5Ú‘‘(ارادے،چاہت)سے مراد نیت ہے۔
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَلِکُلِّ امْرِی ءٍ مَّانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِ امْرَأَةٍ یَّنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاھَاجَرَاِلَیْہٖ یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو