نِیَّت،اِخلاص اور صِدْق کا بیان
ہم شکرگزاربندوں کی تعریف کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تعریف بجالاتے ہیں اوریقین والوں کے ایمان کی طرح اس پر ایمان لاتے ہیں اورصادقین کے اقرار کی طرح اس کی وَحْدانِیَّت کااقرار کرتے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا،زمین وآسمان کا خالق،جن وانس اور ملائکہ مُقَرَّبِیْن کو(ان کی قدرت و طاقت کے مطابق)اس بات کا مکلَّف بنانے والا ہے کہ وہ خالصتاً اسی کی عبادت کریں۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ (پ۳۰،البینة:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوران لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہکی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے۔
پس خالص دیْنِ متین اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لئے ہے کیونکہ وہ ذات شرکَتِ غیرسے بے نیاز،لوگوں سے بڑھ کر بے نیاز ہےاور درودہو اس کے نبی رسولوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اور تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامپر اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پاکیزہ آل و اصحاب پر۔
بے شک اہْلِ دل حضرات کے سامنے بصیرتِ ایمان اور نورِ قرآن سے یہ بات مُنکَشَف ہوچکی ہے کہ علم وعبادت کے بغیر سعادتِ اَبَدی تک کوئی رسائی نہیں اور عُلَماکے سواسب لوگ ہلاکت میں ہیں اورعاملین کے علاوہ سب عُلَما ہلاکت میں ہیں اورمخلصین کے سوا سب عامِلین ہلاکت میں ہیں اور مخلصین بھی بہت بڑے خطرے میں ہیں۔عمل بغیر نیت کے مَحْض مَشَقَّت اور نیت بغیر اخلاص کے ریا(دکھاوا)ہے اور یہ نفاق کا ساتھی اور گناہ میں اس کے برابر ہے۔اخلاص ، صِدْق اور تحقیق کے بغیر گَرد و غبار کے ذرات کی طرح ہے اور ہر وہ عمل جوغَیْرُاللہ کے ارادے کی آمیزش کے ساتھ کیا جائے اس کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے:
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾ (پ۱۹،الفرقان:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر اُنھیں باریک باریک غبارکے بکھرے ہوئے ذرّے کردیاکہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔
کاش!میں جان لیتا کہ جو شخص نیت کی حقیقت کو نہیں جانتا وہ اسےدرست کیسے کرے گا؟یا جو شخص