سرمایہ ہے،عقل میرے دین کی اصل ہے،محبت میری اَساس ہے،شوق میری سواری ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر میرا انیس ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پربھروسا میرا خزانہ ہے،حُزن میرا رفیق ہے،علم میرا ہتھیار ہے،صبر میری چادر ہے،رضا میری غنیمت ہے،عاجزی میرا فخر ہے،زُہد میرا پیشہ ہے،یقین میری قوت ہے، سچ میرا شفیع ہے،اطاعت میرا حسب اور جہاد میرا خُلق ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔‘‘(1)
مشتاق روحیں جلالی قُدسی ہیں:
حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:پاک ہے وہ ذات جس نے روحوں کو جمع شدہ لشکر بنادیا پس عارفین کی ارواح جلالی قدسی ہیں اسی لئے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مشتاق ہیں اور مؤمنین کی ارواح نورانی ہیں اسی وجہ سے وہ جنت کی طرف مائل ہیں اور غافلین کی ارواح ہوائی ہیں اسی وجہ سے وہ دنیا کی طرف مائل ہیں ۔
ایک بزرگ بیان کرتے ہیں:میں نے جبْلِ لُکام میں گندمی رنگ اور کمزور بدن والاایک آدمی دیکھا وہ ایک پتھر سے دوسرے پتھر کی طرف اچھلتے ہوئے جارہا تھا اور کہہ رہا تھا:
اَلشَّوۡقُ وَ الۡھَوٰی صَیَّرَانِیْ کَمَا تَرٰی
ترجمہ:شوق اور عشق نے مجھے ایسا کردیا جیسا تم دیکھ رہے ہو۔
منقول ہے کہ شوق نارِ الٰہی ہے جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیا کے دلوں میں روشن کرتا ہے حتّٰی کہ اس کی وجہ سے ان کے دلی خطرات،ارادے،عوارض اور حاجات سب جل جاتی ہیں ۔
محبت،اُنس،شوق اور رضا کی شرح میں اس قدرگفتگو کافی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی حق کی توفیق دینے والا ہے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و کرم سے’’محبت،شوق،اُنس اور رضاکا بیان‘‘مکمل ہوا
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(…تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ…)
(…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الشفا،فصل وأما خوفه ربه...الخ،۱/ ۱۴۶