Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
212 - 784
اور میرے نزدیک بندہ زیادہ معزز اس وقت ہوتا ہے جب وہ میری طرف رجوع کرے ۔
	حضرت سیِّدُنا ابو خالد صَفّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی ایک عبادت گزار سے ملاقات ہوئی تو اس سے ارشادفرمایا:اے گروہِ عابدین!تم ایسے طریقے پر عمل کرتے ہو جس پر ہم گروہِ انبیا عمل نہیں کرتے۔تم خوف و رجا پر عمل کرتے ہو اور ہم محبت و شوق پر عمل کرتے ہیں ۔
میں اہل محبت کے لئے ہوں:
	حضرت سیِّدُناشیخ شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اے داؤد!میرا ذکر ذاکرین کے لئے، میری جنت اطاعت گزاروں کے لئےاور میرا دیداراہْلِ شوق کے لئے ہے اورمیں خوداہْلِ محبت کے لئے  ہوں ۔
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اے آدم!جوکسی محبوب سے محبت کرتا ہے وہ اس کی بات کوسچ جانتا ہے اور جو اپنے محبوب سے مانوس ہوتا ہے وہ اس کے فعل پر راضی رہتا ہے اور جو اپنے محبوب کا مشتاق ہوتا ہے وہ اس کی طرف جانے میں جلدی کرتا ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاباپنے سینے پر ہاتھ مارتے اور کہتے:ہائے اس کا شوق! جو مجھے دیکھتا ہے اور میں اس کو نہیں دیکھتا۔
آگ کا سمندر:
	حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا یونس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اتنا روئے کہ بینائی جاتی رہی اور اس قدر قیام کیا کہ کمر میں خم پڑ گیا اور اس قدر نماز پڑھی کہ چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی ۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:تیری عزت و جلال کی قسم! اگر میرے اورتیرے درمیان آگ کا سمندر ہوتا تو میں تیرے شوق کی وجہ سے اس میں بھی داخل ہوجاتا۔ 
محبت اَساس اور شوق سواری ہے:
	امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ میں نے مُحِسنِ کائنات، فَخْرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آپ کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو ارشاد فرمایا:’’معرفت میرا