ان چاروں میں سے افضل تعظیم اور محبت ہیں کیونکہ یہ دونوں منزلیں جنتیوں کے ساتھ جنت میں باقی رہیں گی جبکہ دوسری دونوں منزلیں ان سے اٹھا لی جائیں گی۔
دنیاوی تھکاوٹ ،اُخروی راحت:
حضرت سیِّدُناہَرِم بن حَیّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :مومن جب اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچان لیتا ہے تو اس سے محبت کرتا ہے اور جب ا س سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جب اس کی طرف متوجہ ہونے کی حلاوت پاتا ہے تودنیا کی طرف خواہش کی نگاہ سے اور آخرت کی طرف سُستی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور یہ بات اس کو دنیا میں تھکاتی اور آخرت میں راحت پہنچاتی ہے۔
اگر موت خریدی جاسکتی:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد فرماتے ہیں :میں نے ایک عبادت گزار خاتون کودیکھا کہ وہ رو رہی تھی، آنسو (آں ۔سو)اس کے رُخسار پر بہہ رہے تھے اور وہ کہہ رہی تھی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں زندگی سے اُ کتا چکی ہوں حتّٰی کہ اگر موت خریدی جاسکتی تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے شوق اور اس سے ملاقات کی محبت میں اس کو خرید لیتی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا:کیا تمہیں اپنے اعمال پر بھروسا ہے ؟اس نے جواب دیا : اعمال پرتو بھروسا نہیں مگرمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتی ہوں اورمیں اس کے ساتھ حُسْنِ ظن رکھتی ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ مجھے محبت کے ہوتے ہوئے بھی عذاب دے گا؟
ربّ تعالٰی کا بندوں سے پیار:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:مجھ سے رو گردانی کرنے والوں کو اگر پتہ چل جائے کہ مجھے ان کا کتنا انتظار ہے اور ان پر کس قدر مہربان ہوں اور ان کے گناہ معاف کرنے کا کیسا مشتاق ہوں تو وہ میرے شوق کی وجہ سے مر جائیں اور میری محبت کی وجہ سے ان کے جوڑ اُکھڑ جائیں۔اے داؤد!میرا یہ ارادہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مجھ سے رو گردانی کئے ہوئے ہیں تو جو میری طرف متوجہ ہیں ان کے بارے میں میرا ارادہ کیسا ہوگا؟اے داؤد !بندہ اس وقت میرا زیادہ محتاج ہوتا ہے جب وہ مجھ سے بے نیاز ہو اور میں بندے پر زیادہ رَحم اس وقت کرتا ہوں جب وہ مجھ سے پیٹھ پھیرے