سب سے افضل عمل:
حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھا گیا توارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی رہنا اور اس سے محبت کرنا۔
حضرت سیِّدُنا بایزید بِسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:محب نہ دنیا سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی آخرت سے بلکہ وہ تو صرف اپنے مولیٰعَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتا ہے ۔
تعظیم میں حیرت:
حضرت سیِّدُنا شِبْلِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:لذت میں مدہوشی اور تعظیم میں حیرت کا نام محبت ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے :محبت یہ ہے کہ وہ تیرے نشانات تجھ سے مٹا دے حتّٰی کہ تیرے اندر کوئی ایسی شے باقی نہ رہے جو تجھ سے تیری طرف لوٹتی ہو ۔
بعض نے کہا:محبت یہ ہے کہ دل خوشی اور فرحت کے ساتھ محبوب کے قریب ہو ۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابکے نزدیک:ارادوں کو مٹا دینے اور تمام صفات اور حاجات کو جلا دینے کا نام محبت ہے۔
حضرت سیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:اپنی مراد سمجھنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کے دل کو اپنے مشاہدات کی طرف پھیر دے ۔
اہل محبت کی چار منزلیں:
بعض نے کہا کہ محب کا مُعاملہ چار منزلوں پر ہے:(۱)…محبت(۲)…ہیبت(۳)… حیااور(۴)…تعظیم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قُشَیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید خَرَّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نے بیان فرمایا: میں نے خواب میں امامُ الانبیا،سَیَّدُالۡمُرۡسَلِیۡنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی تو عرض کی :یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا عذر قبول فرمائیے ،مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں مشغولیت نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے روک رکھا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:یَامُبَارَک !مَنۡ اَحَبَّ اللہَ فَقَدۡ اَحَبَّنِی یعنی اے مبارک!جواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔(الرسالة القشیرية ،باب المحبة،ص۳۵۶)