Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
21 - 784
 کمی واقع ہو تو محبت میں بھی کمی آجائے گی اور اگر احسان میں زیادتی ہو تو محبت بھی زیادہ ہوجائے گی لہٰذا احسان میں کمی اور زیادتی سے محبت میں کمی اور زیادتی ہوگی ۔
تیسرا سبب:ذاتِ محبوب
	کسی چیز سے محبت اس کی ذات کی وجہ سے کرے ذات کے علاوہ کسی اور فائدے کے حصول کے لئےمحبت نہ ہو بلکہ اس کی ذات ہی عین فائدہ ہو یہی حقیقی اور کامل محبت ہے جس کے دوام کی توقع کی جا سکتی ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسےحسن و جمال کی محبت کیونکہ جمال کا ادراک کرنے والے کے نزدیک ہر جمال محبوب ہوتا ہے اور یہ محبت عیْنِ جمال کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ اس میں جمال کا ادراک ہی عیْنِ لذت ہے اور لذت اپنی ذات کی وجہ سے محبوب ہوتی ہے کسی اور وجہ سے نہیں ۔
	یہاں یہ گمان نہ کیا جائے کہ خوبصورت چہروں سے محبت کرنا شہوت پوری کرنے کی غرض کے بغیر ممکن نہیں،کیونکہ شہوت پوری کرنا ایک دوسری لذت ہےکہ بعض اوقات اس کے لئےبھی خوبصورتی کو محبوب سمجھا جاتا ہےاور نفْسِ جمال کا ادراک بھی لذیذ ہوتا ہے  تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی وجہ سے محبوب ہو اور اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے حالانکہ سبزہ اور بہتا پانی محبوب ہوتا ہے ،اس لئےنہیں کہ پانی پیا جاتا ہے اور سبزہ کھایا جاتا ہے یا دیکھنے کے علاوہ ان سے کوئی اور فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسولِ کریم، رءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سبزہ اور بہتا پانی اچھا لگتا تھا (1)اورطبائِعِ سلیمہ(صاف  ستھری اور اچھی طبیعتیں) خوش رنگ روشنیوں،خوبصورت پھولوں ،پیاری اور مناسب شکل والے پرندوں کی طرف دیکھنے سے لذت حاصل کرتی ہیں حتّٰی کہ ان کی طرف دیکھنے سے انسان کے غم اور پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں حالانکہ ان کی طرف دیکھنے کے علاوہ کوئی اور فائدہ مطلوب نہیں ہوتا۔ یہ تمام اسباب لذت کا باعث ہیں اور ہر لذیذ محبوب ہوتا ہے اور کسی حسن و جمال کا ادراک لذت سے خالی نہیں ہوتا اور جمال کے طبعی طور پر محبوب ہونے کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا تو جسے معلوم ہوجائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جمال والا ہے ،یوں کہ جمالِ الٰہی اور جلالِ الٰہی اس پرمنکَشِف ہوجائے تو لازمی طور پروہ اس کے نزدیک محبوب ہوگا جیسا کہ رسولِ اکرم،شاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،۳/ ۱۷۶، الرقم:۴۶۳:الحسن بن عمرو بن سیف