دے؟ تو ان کی خادمہ نے عرض کی :ہمارامحبوب ہمارے ساتھ ہے مگر دنیا نے ہمیں اس سے جدا کر رکھا ہے ۔
محبَّتِ الٰہی سے بھرا ہوا دل:
حضرت سیِّدُناابوعبداللہ بن جَلّاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:جب میں کسی بندے کے دل میں دنیا اور آخرت کی محبت نہیں پاتا تو اس کو اپنی محبت سے بھر دیتا ہوں اوراسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہوں۔
منقول ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا سَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے محبت کے بارے میں گفتگو کی تو اسی دوران ایک پرندہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور مسلسل اپنی چونچ کو زمین پر مارتا رہا حتی کہ اس سے خون بہنے لگا اور پھر وہ مر گیا۔
محبَّتِ الٰہی کا کوئی مقابل نہیں:
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اے میرے معبود ! تو جانتا ہے کہ اپنی محبت کے ذریعے جو تو نے میرا اکرام کیا اور مجھے اپنے ذکر سے اُنسیت بخشی اور اپنی عظمت میں غوروفکر کے لئے مجھے فراغت عطا فرمائی ان کے مقابلے میں جنت کی حیثیت میرے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں ۔
محبت زندگی ہے:
حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور جس نے دنیا کی طرف رغبت کی وہ عقل کھو بیٹھتاہے اور احمق وہ ہے جو صبح شام بےکار کاموں میں گزارے اور عقل مند وہ ہے جو اپنے عیبوں کی تلاش میں رہے ۔
حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہا سے پوچھا گیا :آپ کو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کیسی محبت ہے؟ فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بے پناہ محبت ہے لیکن خالق کی محبت نے مجھے مخلوق کی محبت(کے اظہار)سے روک رکھا ہے ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… یاد رہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّکی محبت حضورنَبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت ہے جیساکہ حضرت سیِّدُناابوالقاسم …۔۔۔۔۔۔۔