Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
208 - 784
	حضرت سیِّدُناشیخ  شِبْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے عرض کی گئی:ہمیں عارف اور محب کے بارے میں بتائیے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:عارف اگر بولے تو ہلاک ہو اور محب اگر چپ رہے تو ہلاک ہو۔
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اشعار کی صورت  میں فرماتے ہیں:
یَا اَیُّھَا السَّیِّدُ الۡکَرِیۡمُ		حُبُّکَ بَیۡنَ الۡحَشَا مُقِیۡم
یَا رَافِعَ النَّوۡمِ عَنۡ جُفُوۡنِی		اَنۡتَ بِمَا مَرَّ بِیۡ عَلِیۡم
	ترجمہ:(۱)…اے مولائے  کریم! تیری محبت میرے دل میں قائم ہے۔
	(۲)… اے میری پلکوں سے نیند دور کرنے والے! جو مجھ پر گزرتی ہے تو اسے جانتا ہے۔
محبت میں جینامرنا:
	کسی اور نے یوں اظہار کیا ہے :
عَجِبۡتُ ِلمَنۡ یَّقُوۡلُ ذَکَرۡتُ اِلۡفِی		وَ ھَلۡ اَنۡسٰی فَاَذۡکُرُ مَانَسِیۡتُ
اَمُوۡتُ اِذَا ذَکَرۡتُکَ ثُمَّ اَحۡیَا		وَ لَوۡلَا حُسۡنَ ظَنِّی مَا حَیِیۡتُ
فَاَحۡیَا بِالۡمُنَی وَ اَمُوتُ شَوۡقًا		فَکَمۡ اَحۡیَا عَلَیۡکَ وَ کَمۡ اَمُوۡتُ
شَرِبۡتُ الۡحُبَّ کَاۡسًا بَعۡدَ کَاۡسٍ		فَمَا نَفَدَ الشَّرَابُ وَ مَا رَوِیۡتُ
فَلَیۡتَ خِیَالَہُ نَصۡبٌ لِعَیۡنِی		فَاِنۡ قَصَّرۡتُ فِیۡ نَظَرِیۡ عَمِیۡتُ
	ترجمہ:(۱)…اس پر تعجب ہے جو کہے :مجھے محبوب یاد آیا۔کیا میں بھول گیا ہوں جو کہوں کہ یاد آیا؟
	(۲)…تیری یادمیں مرتا ہوں پھر جی اٹھتا ہوں،اگر مجھے حسن ظن نہ ہوتا تو زندہ نہ رہتا ۔
 	(۳)…آرزوؤں کے سہارے جیتا ہوں اور شوق کے سبب مرتا ہوں،تو تیرے لئے کتنا جیتا اور مرتا ہوں۔
	(۴)…میں نے محبت کے جام پر جام پیئے،نہ تو شراب ختم ہوئی اور نہ میں سیراب ہوا۔
	(۵)…کاش! اس کا خیال میری آنکھوں کے سامنے رہے پھر اگر دیکھنے میں کوتاہی کروں تو اندھا ہوجاؤں۔
محبوب ہمارے ساتھ ہے:
	ایک دن حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہا نے فرمایا:کون ہے جو ہمیں ہمارے محبوب کا پتہ