Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
207 - 784
اسی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا لیکن تمہارے  صاحب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خلیل ہیں۔(1)
دوسری فصل:		محبت کے متعلق مختلف مفید باتیں 
مَحبت اتباعِ رسول کا نام ہے:
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: محبت اتباعِ رسول کا نام ہے۔
محبت کیا ہے؟
	کسی نےدائمی ذکر کو محبت کہا ہے اور  کسی نے محبوب کو ترجیح دینے کو محبت سے تعبیر کیا ہے۔بعض نے کہا:دنیا میں باقی رہنے کو ناپسند کرنے کا نام محبت ہے ۔
	اور یہ تما م اقوال محبت کے ثمرات کی طرف اشارہ ہیں۔ رہا نفْسِ محبت تو کوئی بھی اس کی وضاحت کے درپے نہیں ہوا۔بعض نے کہا:محبت محبوب کے ایسے وصف کا نام ہےجس کے اِدْراک سے دل مغلوب اور زبانیں بیان سے عاجز ہوتی ہیں ۔
عِوَض گیا محبت گئی:
	حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:غیرُاللہ سے تعلق رکھنے والے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محبت کو حرام کر دیا ہے ۔
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے منقول ہے:ہر محبت عوض کے مقابل ہوتی ہے جب عوض جاتا رہے تو محبت بھی جاتی رہتی ہے ۔
اظہارِ محبت:
	حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جو شخص محبتِ الٰہی کا اظہار کرے اس سے کہہ دو کہ غیر ُاللہ کے لئے ذلیل ہونے سے ڈرے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابی بکر،ص۱۲۹۹،حدیث:۲۳۸۳