کا آخرت سے تو وہ آخرت کی بات کو دنیاکی بات پر ترجیح دے ۔(1)
مروی ہے کہ ’’بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں تین خصلتیں نہ ہوں:(۱)…جب وہ غصے میں ہو تو اس کا غصہ اس کو حق سے نہ نکالے(۲)…جب راضی ہو تو اس کی رضا اس کو باطل میں داخل نہ کرے اور(۳)…جب طاقتور ہو تو وہ مال نہ لے جو اس کا نہیں۔‘‘(2)
رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ِ خوشبودار ہے:تین باتیں ایسی ہیں کہ جس کو عطا کی گئیں اس کو داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی مثل عطا گیا:(۱)…رضا اور غصے کی حالت میں انصاف کرنا(۲)… تَوَنگَرِی اور فقر کی حالت میں میانہ روی اختیار کرنااور(۳)…باطن اور ظاہر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا۔(3)
یہ وہ شرطیں ہیں جو رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اہْلِ ایمان کے لئے ارشاد فرمائیں تو اس شخص پر تعجب ہے جو عِلْمِ دین کا دعوٰی تو کرتا ہے لیکن اپنے آپ میں ان شرائط میں سے ایک ذرہ نہیں پاتا پھر وہ اپنے علم اور عقل سے اسی قدر حصہ رکھتا ہے کہ جو بات ایمان لانے کے بعد بڑے بڑے مقامات طے کرکے حاصل ہوتی ہے اس کا انکار کردے ۔
رب تعالٰی کا خلیل کون ؟
مروی ہے کہ ربّ تعالیٰ نے اپنے ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ’’میں اسی کو اپنا خلیل بناتا ہوں جو میرے ذکر میں غفلت نہ کرے اور میرے علاوہ اس کو کسی کی فکر نہ ہو اور نہ ہی میری مخلوق میں سے کسی کو مجھ پر ترجیح دے اور اگر اس کو آگ میں جلا دیا جائے تو آگ کی جلن سے تکلیف نہ پائے اور اگر اس کو آروں سے چیر دیا جائے تو اس کا بھی درد محسوس نہ کرے ۔‘‘
جس شخص کی محبت اس حد کو نہ پہنچی ہو وہ محبت کے بعد کی کرامات اور مُکاشَفات کو کیسے جانے گا ؟کیونکہ یہ کشف وکرامت کے سارےسلسلے محبت کے بعد ہوتے ہیں اور محبت کمالِ ایمان کے بعد ہوتی ہے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،الفصل الثالث والعشرون:محاسبةالنفس،۱/ ۱۳۹
2…شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق،۶/ ۳۲۰،حدیث:۸۳۲۹،قول سری سقطی علیہ الرحمہ
3…نوادر الاصول للحکیم ترمذی،الاصل الثانی والتسعون،۱/ ۳۹۵،حدیث:۵۶۷