سُبۡحٰنَ اللہ کہناایک طرح سے شرک ہے ۔اس نے عرض کی : وہ کیسے؟آپ نے ارشاد فرمایا:کیونکہ تم نے خود کو بڑا سمجھ کر اس کی تسبیح بیان کی ہے تم نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان نہیں کی ۔اس نے عرض کی:یہ کام تو میں نہیں کروں گا۔ہاں ! کچھ اور بتائیے۔ ارشاد فرمایا:سب سے پہلے یہی کرنا ہوگا۔اس شخص نے کہا:یہ میں نہیں کر سکتا۔آپ نے ارشاد فرمایا:میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم قبول نہیں کرو گے ۔
حضرت سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِینے جو یہ طریقہ بیان فرمایایہ اس شخص کی دوا ہے جو اپنے نفس کی طرف نظر کرنے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بیماری میں مبتلا ہےاور اس بیماری سے نجات صرف اسی یا اس جیسے دوسرے علاج سے ہی مل سکتی ہے ۔اورجو شخص علاج کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے اس شخص کے حق میں شفا کے ممکن ہونے کا انکار نہیں کرنا چاہئے جو اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے نفس کا اسی طریقے سے علاج کرتا ہو یا اس طرح کے مرض میں کبھی مبتلا ہی نہ ہوا ہوکیونکہ کم تر دَرَجہ صحت کا یہ ہے کہ اس کے ممکن ہونے پر ایمان رکھتا ہو پس اس کے لئے ہلاکت ہے جو اس قلیل مقدار سے بھی محروم ہے۔اور یہ اُمور شریعت میں ظاہر اور واضح ہیں مگر اس کے باوُجود اس شخص کے نزدیک خارج از امکان ہیں جو اپنے آپ کو علمائے شریعت میں سے گردانتا ہے۔
ایمانِ کامل کی شرائط:
رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں :بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک شے کی قِلَّت اس کے ہاں کثرت سے زیادہ محبوب نہ ہو اور جب تک غَیْرِمشہور ہونا اس کے نزدیک مشہور ہونے سے زیادہ پسندیدہ نہ ہو ۔(1)
سَیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے:تین باتیں جس میں پائی جائیں اس کا ایمان کامل ہے:(۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ ہو۔(۲)…اپنے کسی عمل میں ریا کاری نہ کرےاور(۳)… جب اس پر دو باتیں پیش کی جائیں ایک کا تعلق دنیا سے ہو اور دوسری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین،۲/ ۱۲۲