سب سے بڑا حجاب:
یہ حضرات اسی طرح اپنے نفس کوسدھایا کرتے تھے تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو مخلوق کی طرف نظر کرنے سے نجات دے اور پھر آہستہ آہستہ نفس کی طرف بھی اِلْتِفات نہ رہے کیونکہ اپنے نفس کی طرف التفات کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے پردے میں رہتا ہے اور اس کا اپنے نفس میں مشغول رہنا ہی اس کے لئے رکاوٹ ہے اس لئے کہ دل اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کوئی حجاب اور رکاوٹ حائل نہیں ہوتی بلکہ دلوں کی دوری یہی ہے کہ وہ غیرُاللہیا اپنے نفس کے ساتھ مشغول رہیں اور سب سے بڑا حجاب اپنے نفس کے ساتھ مشغول ہونا ہے ۔
حکایت : سیِّدُنابایزید بِسطامیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہاور ایک مُعَزز
منقول ہے کہ اہْلِِ بِسطام کا ایک معززشخص حضرت سیِّدُنا بایزید بِسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کی مجلس سے کبھی جدا نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمَتِ با برکت میں عرض کی:میں30سال سے مسلسل روزہ رکھتا ہوں اورافطار نہیں کرتا اور رات بھر جاگتا ہوں سوتا نہیں لیکن اس کے باوُجود میں اپنے دل میں وہ علم نہیں پاتا جو آپ بیان کرتے ہیں حالانکہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کو پسند کرتا ہوں ۔حضرت سیِّدُنا بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اگرتم تین سو سال بھی دن میں روزہ رکھو اور رات میں قیام کرو تو اس کا ایک ذرہ بھی نہیں پاسکو گے۔اس نے عرض کی:ایسا کیوں ہے؟ارشاد فرمایا:کیونکہ تم اپنے نفس کی وجہ سے پر دے میں ہو ۔اس نے عرض کی:کیا اس کی کوئی دوا ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں۔عرض کی :مجھے بتائیے تا کہ اس کو استعمال کروں ۔ فرمایا:تم اس کو قبول نہیں کرو گے۔اس نے پھرعرض کی:بس آپ مجھے دوا بتائیں تا کہ میں اسے استعمال کروں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا :ابھی حجام کے پاس جاؤ اور اپنا سر اور داڑھی منڈوا دو(1) اور یہ لباس اتار کربغیر آستین والا چوغہ پہن لو اور اپنی گردن میں اخروٹوں سے بھراتھیلا لٹکا لو اور اپنے ارد گرد بچوں کو جمع کرکے کہو :”جو بچہ مجھے ایک تھپڑ مارے گامیں اسے ایک اخروٹ دوں گا۔“ اسی طرح بازار میں موجود لوگوں کے پاس چکر لگاؤنیز جو تمہارے جاننے والے ہیں ان کے پاس بھی اسی حالت میں جاؤ۔یہ سن کر اس شخص نے کہا:سُبۡحٰنَ اللہ!آپ مجھ سے ایسی بات کہتے ہیں۔اس پر حضرت سیِّدُنا بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”تمہارا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ سمجھانے کے لئے بطورِتنبیہ فرمایا،اگر وہ منڈوانے جاتا تو ضرور روکتے۔(ازعلمیہ)