Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
202 - 784
سے محروم ہوں تومناسب نہیں کہ جو لوگ اس کے اہل ہیں ان کے لئے  اس کے ممکن ہونے پر ایمان نہ رکھیں۔ لہٰذا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی نہ بن سکے اسے چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اولیا کو مانتے ہوئے ان سے محبت رکھے۔ امید ہے جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ حشر ہو ۔
	اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل سے پوچھا:کھیتی کہاں اگتی ہے؟انہوں نے جواب دیا:مٹی میں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ حکمت بھی اسی دل میں پیدا ہوتی ہے جو مٹی کی طرح ہو ۔
	اور ولایتِ الٰہی کے طالبین نے شروطِ ولایت کی جستجو میں نفس کو ایسا ذلیل کیا کہ انتہائی  دَرَجہ  کی عاجزی اور خَساسَت تک پہنچا دیا۔
حکایت :عاجزی وانکساری کی انتہا
	حضرت سیِّدُنا ابنِ کَرَنۡبِی جو حضرت سیِّدُنا جنیدِ بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے استاذ ہیں ان کے بارے میں منقول ہے کہ ان کو ایک شخص نے تین بار کھانے کی دعوت دی جب آپ جاتے تو وہ لوٹا دیتا یہاں تک چوتھی مرتبہ انہیں اپنے گھر لے گیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بار بار لوٹائے جانے کے باوجود ناراض نہ ہونے کی وجہ پوچھی توارشاد فرمایا:”میں 20 سال تک اپنے نفس کو ذلت پر راضی رہنے کا عادی بناتا رہا حتّٰی کہ اب اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی ہے کہ جب اس کو دھتکارا جائےتو چلاجاتا ہے پھر جب اس کو بلاکر ہڈی ڈالی جائے تو لوٹ آتا ہے ۔تم اگر مجھے50مرتبہ بھی لوٹادیتے اور اس کے بعد پھر بلاتے تو میں چلا آتا ۔“
حکایت:حمام کا چور
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے  منقول ہےکہ میں ایک محلے میں گیا تو وہاں مجھے ایک نیکو کارکی حیثیت سے پہچانا گیا۔اس بات نے میرے دل کو پریشان کیا تومیں ایک حمام میں داخل ہوا اور وہاں موجود قیمتی کپڑے اٹھا کر پہن لئے پھر ان کے اوپر اپنی گدڑی پہن لی اور وہاں سے نکل آیا اور آہستہ آہستہ چلنے لگا۔پس لوگوں نے مجھے پکڑلیااور میری گدڑی اتارکر اپنے کپڑے لے لئے  اور مجھے خوب مارا پیٹا۔ اس کے بعد میں حمام کا چور مشہور ہو گیا، تب میرے دل کو سکون ملا۔