Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
201 - 784
 اڑاتے اور بغیر اجرت کے اپنا سامان ان سے اٹھواتے کیونکہ ان کی کوئی وقعت ان کی نظروں میں نہ تھی اور بچے ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔اَلْغَرَض ان کا راحت وآرام ،دل کا چین اور حال کی دُرستی ذلت اور گمنامی میں تھی۔
اولیا  کو کہاں تلاش کریں ؟
	یہی حال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اولیا  کا ہے اور ایسے ہی لوگوں میں انہیں تلاش کرنا چاہئے جبکہ دھوکے کے شکارافراد انہیں ایسے لوگوں میں ڈھونڈتے ہیں جو صوفیانہ لباس اور چادریں پہنے ہوں  اور لوگوں میں علم، وَرَع اور ریاست میں مشہور ہوں حالانکہ اولیائے کرام کے بارے میں غیرتِ الٰہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ مخفی رہیں جیسا کہ حدیثِ قُدسی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:”میں اپنے اولیا کو پوشیدہ رکھتا ہوں ان کی حقیقت میرے سوا کوئی نہیں جانتا۔“(1)
	رسولِ اکرم،شفیعمُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’رُبَّ اَشۡعَثَ اَغۡبَرَ ذِیۡ طِمۡرَیۡنِ لَایُؤۡبَہٗ لَہٗ لَوۡ اَقۡسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَرَّہٗیعنی بہت سے پراگندہ بال ،غبار آلود چہرے  اورپھٹے پرانے کپڑوں والے لوگ جن کو حقیر سمجھا جاتا ہے ،ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر قسم کھائیں تواللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کو ضرور پورا کرے ۔‘‘(2)
اولیاء سے محبت کام آئے گی:
	خلاصہ یہ ہے کہ ان معانی کی خوشبوُ سے زیادہ دور وہ دل ہیں جو تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہیں اور اپنے علم و عمل پر نازاں ہیں اور نزدیک تر وہ دل ہیں جو شکستہ ہیں اور اپنی ذلت اس قدر سمجھتے ہیں کہ جب انہیں ذلیل و رُسوا کیا جائے تو اس کا احساس بھی نہ ہو،جس طرح غلام کو ذلت کا احساس نہیں ہوتا جب اس کا آقا اس سے اونچا بیٹھتا ہے۔پس جب حالت یہ ہو کہ نہ ذِلَّت کا احساس ہو اور نہ اس کی طرف اِلْتِفات ہونے کی وجہ سے اس کا شعور ہو بلکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بھی کم درجہ میں سمجھتا ہو کہ تما م اقسام کی ذلت کو اپنے حق میں ذلت سمجھے،حتّٰی کہ طبعی طور پر تواضُع کرنا اس کی صفتِ ذات بن جائے تو ایسے دل کے بارے میں توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان خوشبوؤں کے آغازوشروع کوسونگھ لے۔پس اگر ہم اس طرح کے دل اورایسی روح 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر نیشاپوری،پ۳،سورة البقرة،تحت الاٰية:۲۷۳، ۲/ ۵۸
2…سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب البراء بن مالک،۵/  ۴۶۰،حدیث:۳۸۸۰