عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کیا کرتا تھا کہ وہ مجھ سے میرے حال کو پوشیدہ رکھے اور میرے مُعاملے کو مخلوق پر ظاہر نہ فرمائے ۔“
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی کے متعلق منقول ہے کہ آپ نے حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کی زیارت کی اور ان سے اپنے لئے دعا کی التجا کی تو حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے یوں دعا فرمائی:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر اپنی عبادت کو آسان کرے۔“آپ نے مزید دعا کے لئے عرض کی توانہوں نے فرمایا:”اوراس عبادت کو تم پر پوشیدہ رکھے۔“
اس دعاکا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ”مخلوق سے اس کو پوشیدہ رکھے۔“ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ”اس کو تم سے پوشیدہ رکھے تاکہ تم اس کی طرف اِلْتِفات نہ کرو ۔“
حکایت:نرالی دُعا کا حیرت انگیزاثر
ایک بزرگ فرماتے ہیں :مجھے حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کی ملاقات کا شوق ہوا تو ایک بار میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کی کہ وہ مجھے ان کی زیارت سے مشرف فرمائے تا کہ میں ان سے اپنے حق میں زیادہ ضروری چیز کے بارے میں علم حاصل کروں۔چنانچہ مجھے ان کی زیارت ہوئی تو میں ان سے صرف یہ کہہ سکا: اے ابو العباس ! (1)مجھے ایسی چیز سکھا دیجئے کہ جب میں اس کو پڑھوں تو لوگوں کے دلوں سے پوشیدہ ہوجاؤں اور میری ان میں کوئی قدر و منزلت نہ رہے اور نہ ہی کوئی شخص میری نیکو کاری اور دیانت کو جانے۔تو انہوں نے فرمایاکہ تم اس طرح دعا کیا کرو:اَللّٰهُمَّ اَسۡبِلۡ عَلَىَّ كَثِيۡفَ سِتۡرِكَ وَحَطَّ عَلَىَّ سُرَادِقَاتِ حُجُبِكَ وَاجۡعَلۡنِی فِى مَكۡنُوۡنِ غَيۡبِكَ وَاحۡجُبۡنِى عَنۡ قُلُوۡبِ خَلۡقِكیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھ پر اپنا موٹا پردہ ڈال دے اور مجھ پر اپنے حجابات کے پردے اتار اور مجھے اپنے مخفی غیب میں کر دے اور اپنی مخلوق کے دلوں سے مجھے چھپا دے۔‘‘فرماتے ہیں:اتنا کہہ کر وہ غائب ہوگئے اور میں انہیں پھرنہ کبھی دیکھ سکا اور نہ ہی مجھے دوبارہ ان کے ملنے کاشوق ہوا اور میں ان کی بتائی ہوئی دعا کو روزانہ پڑھتا تھا۔
منقول ہے کہ اس دعا کی تاثیریہ ہوئی کہ ان کی ذلت و اہانت اس قدر کی جاتی کہ ذِمِّی کافر بھی ان کا مذاق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کی کنیت ہے اور آپ کا نام’’بَلْیا‘‘اوروالد کا نام’’مَلْکان‘‘ہے۔’’بلیا“ سریانی زبان کا لفظ ہے، عربی زبان میں اس کا ترجمہ”احمد“ ہے اور”خضر“ آپ کا لقب ہے ۔پورا نا م یہ ہوا”ابوالعباس بَلْیابن ملکان“۔بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ (صاوی،۴/ ۱۲۰۷)