Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
20 - 784
اور فطری طور پر دل احسان کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور برائی کرنے والوں سے نفرت کرتے ہیں اور رسولِ اَکرم،شفیع مُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْ لِفَاجِرٍ عَلَیَّ یَدًا فَیُحِبُّہٗ قَلْبِی یعنی اے اللہعَزَّ وَجَلَّ!کسی فاجر کا مجھ پر احسان نہ رکھ جس کی وجہ سے میرا دل اس سے محبت کرے۔“(1)
	حدیثِ پاک میں اس طرف اشارہ ہے کہ احسان کرنے والے سے قلبی محبت غیر اختیاری ہے جس کو دور نہیں کیا جاسکتا اور یہ فطری چیز ہے اس کو تبدیل کرنے کی کوئی راہ نہیں ۔اسی بناء پر بعض اوقات انسان ایک اجنبی سے محبت کرتا ہے کہ جس کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ ہوتا ہے نہ کوئی تعلق۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو محبت کا یہ سبب بھی پہلے سبب کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مُحْسِن(احسان کرنے والا) وہ ہوتا ہے جو مال اور دیگرایسے  اسباب سے مدد کرے جو وجود کے دوام و کمال اور اُن لذتوں کے حصول کا سبب بنتے ہیں جن سے وجود تیار ہوتا ہے۔البتہ ! دونوں اسباب میں فرق یہ ہے کہ اعضاء انسان کو اس لئےمحبوب ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے اس کے وجود کا کمال ہے اور یہی کمال مطلوب ہوتا ہےلیکن محسن بِعینہٖ مطلوبِ کمال نہیں ہوتا مگر بعض اوقات یہ اس کا سبب بن جاتا ہے جس طرح طبیب اعضاء کی دائمی صحت کا سبب ہوتا ہے تو صحت سے محبت اور طبیب سے محبت جو صحت کا سبب ہے دونوں میں فرق ہے کیونکہ صحت بذاتہٖ مطلوب ہے اور طبیب بذاتہٖ محبوب نہیں بلکہ اس لئےمحبوب ہے کہ وہ صحت کا سبب ہے۔
	اسی طرح علم محبوب ہوتا ہے اور استاذ بھی محبوب ہوتا ہے لیکن علم اپنی ذات کی وجہ سے محبوب ہوتا ہے اور استاذ اس وجہ سے کہ وہ علم کا سبب ہے ۔اسی طرح کھانا اور پانی محبوب ہوتے ہیں اور دینار محبوب ہوتے ہیں لیکن کھانا اور پانی اپنی ذات کی وجہ سے محبوب ہوتے ہیں اور دینار اس وجہ سے محبوب ہوتے ہیں کہ وہ کھانے کا ذریعہ ہیں اَلْغَرَض دونوں محبتوں میں فرق رُتبے کا ہے ورنہ دونوں میں محبت کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے کیونکہ جو کوئی محسن سے اس کے احسان کی وجہ سے محبت کرتا ہے وہ حقیقت میں اس کی ذات سے محبت نہیں کرتا بلکہ اس کے احسان سے محبت کرتا ہے اور احسان محسن کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔ اگر احسان نہ رہے تو محبت بھی زائل ہوجائے گی اگرچہ محسن کی ذات باقی رہے اور اگر احسان میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح اصول اعتقاد اهل السنة  والجماعة  للالکائی،۱/  ۱۳۵،حدیث:۲۷۵ ،’’فاجر‘‘بدلہ’’صاحب بدعة‘‘