Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
199 - 784
 سکوں اوربارگاہِ الٰہی میں عرض کی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیرےغیرسے تیری پناہ مانگتا ہوں ،مجھے ان کی کوئی حاجت نہیں۔“ فرماتے ہیں : میں مسلسل گڑ گڑاتا رہا حتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو مجھ سے دور کر دیا۔
انتہائی  دَرَجہ کی جہالت وگمراہی:
	صاحبِ ایمان کو اس طرح کے مکاشفات کا اس وجہ سے انکار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ خود اس سے خالی ہے اس لئے کہ اگر ہر ایک آدمی صرف اسی چیز پر ایمان لائے جس کا وہ اپنے تاریک نفس اور سخت دل سے مشاہَدہ کرتا ہے تو اس پر ایمان کی راہ تنگ ہوجائے گی بلکہ یہ احوال کئی گھاٹیوں سے گزرنے اور بہت سے مقامات پانے کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ ان مقامات کا ادنیٰ دَرَجہ اخلاص اور تمام ظاہری و باطنی اعمال سے نفس کے فوائد اور مخلوق کے لحاظ کو نکالنا ہے پھر اس امر کو مخلوق سے چھپانا ہے حتّٰی کہ گمنامی کے قلعے میں بند ہو رہے تو یہ ان لوگوں کے آغازِ سُلوک اور سب سے کم مقام کی باتیں ہیں جو کہ بڑے بڑے متقی اور پرہیز گار لوگوں میں بھی کم ہی پائی جاتی ہیں اور دل کو مخلوق کی طرف التفات کی کدورتوں سے صاف کرنے کے بعد اس پر نورِ یقین کا فیضان ہوتا ہے اور حق کے مبادی مُنْکَشِف ہو نے لگتے ہیں اور تجربہ و طریقت کی راہ پر چلے بغیر اس کا انکار کرنا اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص لوہے میں شکل وصورت کے ظہور کا انکار کرے اگرچہ اسے رگڑ کر صاف ستھرا کر کے شیشے کی مانند کر دیا جائے ۔چونکہ منکر کی نگاہ لوہے کے سیاہ ٹکڑے پر ہوتی ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے جس پر زنگ اور میل چڑھا ہوا ہے اور اس میں کوئی صورت نظر نہیں آتی،اسی لئے وہ  ظہورِ جوہر کے وقت صورت کے ظاہر ہونے کا بھی انکار کر دیتا ہےمگر اس کا یہ انکار انتہائی  دَرَجہ کی جہالت اور گمراہی ہے ۔
	پس یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو کراماتِ اولیا کا منکر ہے(یعنی وہ انتہائی  دَرَجہ کا جاہل وگمراہ ہے) اور اس کے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس بات کےکہ  وہ خود اس کیفیت سے محروم ہے لہٰذا دوسروں کوبھی  اس سے محروم سمجھتا ہے  جبکہ قُدرتِ خداوندی کا انکار کرنے کی یہ بہت بُری دلیل ہے اور مکاشَفہ کی خوشبو وہی سونگھتا ہے جس نے  راہِ طریقت کی کچھ مسافت طے کی ہو اگرچہ اس کی ابتدا ہی میں ہو ۔
اپنا مقام چھپانے کی دعا:
	حضرت سیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی سے پوچھا گیا:آپ اس مقام پر کیسے پہنچے؟ارشادفرمایا:” میں اللہ