دیا:مجھے ان کی حاجت نہیں۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بار بار یہ جملہ دوہرایاتو مرید کا وجد جوش میں آیا اور اس نے کہا:تم پر افسوس ہے میں بایزید کو کیا کروں گا،میں نے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھا ہے اور اس نے مجھے بایزید سے مُسْتَغْنِی کر دیا ہے ۔حضرت سیِّدُنا ابو تراب نَخْشَبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ سُن کر میری طبیعت میں بھی اِضْطِراب پیدا ہوگیا اور مجھے خود پر قابو نہ رہا تو میں نے کہا:تیری ہلاکت ہو،تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھ کرمغرور ہوتا ہے اگر تو ایک بار سیِّدُنا بایزیدبِسطامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو دیکھ لے تو تیرے حق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو70بار دیکھنے سے زیادہ نافع ہو گا۔اس بات سے مرید بہت حیران ہوا اور انکاری لہجے میں کہنے لگا:یہ کیسے ہوسکتا ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے فرمایا:تیرا ناس ہو! تواپنے ہاں باری تعالیٰ کے ظہور کواپنے مقام کے لحاظ سے دیکھتا ہے اور حضرت سیِّدُنا بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس اُس کے ظہور کو ان کے مقام کے اعتبار سے دیکھے گا۔ مرید بات سمجھ گیا اور کہا :مجھے ان کے پاس لے چلیں۔حضرت سیِّدُنا ابو تُرابرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :حضرت سیِّدُنا بایزیدبِسطامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی چونکہ درندوں کے جنگل میں رہا کرتے تھےتو ہم وہاں ایک ٹیلے پر کھڑے ہوکر ان کا انتظار کرنے لگے کہ وہ جنگل سے نکل کر ہماری طرف تشریف لائیں۔ اسی دوران وہ تشریف لائے اور انہوں نے ایک پوستین اپنی کمر پر ڈال رکھی تھی۔ میں نے اس جوان سے کہا :دیکھ یہ ہیں بایزید۔ جیسے ہی جوان نے ان کی طرف دیکھا تو بے ہوش ہوکر گر پڑا ہم نے اس کو ہلایا تو وہ مر چکا تھا ۔ ہم نے مل کر اس کو دفنا دیا۔پھر میں نے حضرت سیِّدُنا بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: اے میرے آقا!یہ جوان آپ کی طرف دیکھنے سے مر گیا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ تمہارا مرید سچا تھا اور اس کے دل میں ایک راز چھپاہواتھا جس کی حقیقت اس پرمُنْکَشِف(یعنی ظاہر) نہیں ہوئی تھی پس جب اس نے ہمیں دیکھا تو اس کے دل کا راز اس پر منکشف ہوگیا جس کا بوجھ وہ اُٹھا نہ سکا کیونکہ وہ کمزور مریدوں کے مقام میں تھااور اس بوجھ کی وجہ سے مر گیا۔
ظالموں کے خلاف بددعا نہ کی :
منقول ہے کہ جب سوڈان کے حبشی بصرہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت سیِّدُنا سَہل بن عبداللہ تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مریدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض