Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
194 - 784
	جب کسی عارف سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:رضائے الٰہی پر راضی رہنے والا ان سب سے افضل ہےکیونکہ وہ ان سب سے کم فضولیات میں مبتلا ہوتا ہے ۔
	ایک دن حضرت سیِّدُنا وُہَیب بن وَرد،حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری اورحضرت سیِّدُنایوسُف بن اَسبا ط رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ایک جگہ جمع ہوئے تو حضرت سیِّدُنا سُفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:میں آج سے پہلے اچانک آنے والی موت کو ناپسند کرتا تھا مگر آج چاہتا  ہوں کہ موت آجائے ۔حضرت سیِّدُنا یوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی؟ارشادفرمایا:کیونکہ مجھے فتنے کا خوف ہے۔حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:لیکن میں طویل زندگی کو ناپسند نہیں کرتا ۔حضرت سیِّدُنا سُفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا:ہوسکتا ہے مجھے کوئی ایسا دن مل جائے جس میں توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے اور عمَلِ صالح کر لوں۔پھر حضرت سیِّدُناوُہیب بن وَرد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا:میں کچھ بھی پسند نہیں کرتا مجھے تو وہی پسندہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہے۔یہ سُن کر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کی پیشانی کو چوما اور فرمایا:ربّ ِکعبہ کی قسم!یہ روحانیت ہے۔
باب نمبر4: 				حکایات واقوال(اس میں دو فصلیں ہیں)
پہلی فصل:		   مُحِبِّین کی حکایات،اقوال اور مکاشفات
جسےسیِّدُنا خضرعَلَیْہِ السَّلَام دیکھنا چاہیں:
	کسی عارف سے پوچھا گیا:کیا تم محب ہو؟انہوں نے جواب دیا:میں محب نہیں بلکہ محبوب ہوں کیونکہ محب کو زیادہ مشقت اٹھانی پڑتی ہے ۔پھر کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں: آپ سات میں سے ایک ہو۔انہوں  نے فرمایا:میں پورا سات ہوں۔مزید فرمایا: جب تم نے مجھے دیکھ لیا تو بے شک تم نے40ابدالوں کو دیکھ لیا۔ عرض کی گئی : یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ آپ تو فردِ واحد ہیں؟ارشاد فرمایا:اس لئے  کہ میں نے40ابدالوں  کو دیکھا ہے اور ہر ابدال کے اخلاق میں سے ایک خُلق پایا ہے ۔ان سے پوچھا گیا:ہمیں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے