Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
193 - 784
اگرکہیں گناہ زیادہ ہوں تو کیا کریں ؟
	اسلاف کے مذکورہ اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جو ایسے شہر میں سکونت اختیار کرنے میں مبتلا ہو جہاں گناہ زیادہ اور نیکی کم ہوتی ہو تو اس کے پاس وہاں رہنے کے لیے کوئی عذر نہیں بلکہ اس کو وہاں سے ہجرت کرنا چاہئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا  ہے:
اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا (پ۵،النساء:۹۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔
	تو اگر اس کو اہل و عیال اور تعلق داری ہجرت سے رکاوٹ ہوں تو اُسے اپنے حال پر راضی اوردلی طور پر مطمئن نہیں ہونا چاہئےبلکہ ہمیشہ دل برداشتہ ہوکر یہ دعا مانگتا رہے: رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ (1)
	اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ظلم عام ہوجاتا ہے تو آفات وبَلِیّات نازل ہوتی ہیں اور سب کو تباہ کر دیتی ہیں اور اطاعت گزاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً ۚ(پ۹،الانفال:۲۵)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا ۔
	پس دین کے نقصان کے اسباب میں سے کسی شے میں مطلق رضا نہیں مگر اس حیثیت سے کہ وہ فعْلِ الٰہی کی طرف منسوب ہے اور جہاں تک شے کی ذات کاتعلق ہے تواس میں  کسی حال میں رضا کی کوئی وجہ نہیں۔
تین میں سے افضل کون ؟
	علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ درج ذیل تین مختلف مقامات والے لوگوں میں سے افضل کون ہے؟(۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دیدار کے شوق میں موت کومحبوب جاننے والا۔(۲)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کے لئے  زندہ رہنے کو پسند کرنے والا ۔(۳)…وہ جو کہے:میں کسی چیز کو اختیار نہیں کرتا بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پر راضی ہوں۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں۔(پ۵،النساء:۷۵)