Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
192 - 784
	حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے ایک دن عراق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:” وہاں برائی کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اوروہاں لا علاج بیماری ہے (یعنی ایسا مرض ہے جس کا علاج دریافت نہیں ہوا)۔“اوراسی طرح منقول ہے کہ بھلائی کے دس حصے کئے  گئےجن میں سے نو حصے شام میں اور ایک حصہ عراق میں ہے اور یوں ہی شر کے دس حصے کئے گئے تو ان میں سے نو حصےعراق میں اور ایک حصہ شام میں ہے ۔
ظالموں کا گھونسلا:
	ایک محدث  نے بیان فرمایا کہ ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا فُضیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں موجودتھے کہ ایک صوفی جبہ پہنے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کو اپنی ایک طرف بٹھایا اور اس کی جانب متوجہ ہوکر پوچھا:تم کہاں رہتے ہو؟اس نے جواب دیا:بغداد میں۔یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا:اہْلِ بغداد میں سے کوئی ایک ہمارے پاس زاہدوں کا سا لباس پہن کر آتا ہے اور جب ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ کہاں رہتے ہو تو جواب دیتا ہے:” ظالموں کے گھونسلے میں رہتا ہوں۔“
	حضرت سیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرمایا کرتے تھے:”بغداد میں عبادت کے لئے  خلوت اختیار کرنے والا بیت الخلا میں عبادت کے لئے خلوت اختیار کرنے والے کی طرح ہے۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ بھی فرماتے کہ بغداد میں اقامت اختیار کرنے میں میری اقتدا نہ کرو جو یہاں سے جانا چاہتا ہو وہ چلا جائے۔
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل فرمایا کرتے:اگر یہ بچے ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو میں اس شہر سے نکل جانے کو ترجیح دیتا۔لوگوں نے عرض کی:پھر آپ کہاں رہنا پسند کرتے؟ارشاد فرمایا: پہاڑوں اور وادیوں میں۔
	ایک بزرگ سے بغدادوالوں  کے متعلق دریافت کیا گیا توفرمایا:”یہاں کے زاہدبھی پکے ہیں اور بدکار بھی پکے ہیں۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…یہاں امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکا شہر بغداد کی مَذمَّت بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اہْلِ بغداد کی ابتر حالت کو ذکر کرنا ہے۔حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبغداد کے بارے میں اپنے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے:مجھے تو بغداد میں مرنے کا حکم دیا گیا ہےکیونکہ اس شہرکےیہ نیک لوگ سچے ابدالوں میں سے ہیں۔(اتحاف السادة التقین  ،۱۲/ ۵۶۰)