Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
191 - 784
 داخل ہے۔ اسی طرح وہ جگہیں اور اسباب جو گناہ کی طرف بُلاتے ہیں ان کی برائی بیان کرنا تا کہ لوگوں کو گناہ سے نفرت ہو یہ مذموم نہیں۔حضرات سلفِ صالحینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی ہمیشہ سے یہ عادتِ مُبارَکہ رہی ہے حتّٰی کہ لوگوں کی ایک جماعت نے بغداد کی بُرائی بیان کرنے پر اتفاق کیا اور اس برائی کو ظاہر کیا اوروہ  وہاں سے ہجرت کی تلاش میں رہتےتھے۔
اہلِ بغداد کی ابتر حالت:
	 حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشادفرمایا:میں مشرق اور مغرب میں گھوما لیکن بغداد سے بُرا کوئی شہر نہیں دیکھا ۔لوگوں نے عرض کی : وہ کیسے؟ارشاد فرمایا:” اس شہر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کو حقیر جاناجاتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کو معمولی سمجھا جاتا ہے ۔“یوں ہی جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخُراسان تشریف لائے تو لوگوں نے آپ سے بغداد کے بارے میں پوچھا۔آپ نے ارشاد فرمایا:میں نے وہاں پر یا تو سپاہی کو دیکھا کہ حالتِ غضب میں ہے یا تاجر کو دیکھا کہ حسرت اور افسوس کر رہا ہے یا پھر قاری کو دیکھا کہ حیرت زدہ ہے۔
16 دن کا کَفّارہ16 دینار:
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ قول غیبت نہیں ہے کیونکہ آپ نے کسی معین شخص کو ذکر نہیں کیا کہ اس کو آپ کی بات سے ضرر پہنچا ہو بلکہ آپ کا مقصد تو صرف لوگوں کو ڈرانا تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًاوَتَعۡظِیۡمًاکے لیےنکلتے تواثنائے سفر بغداد میں بھی قیام ہوتا اور16دن تک قافلہ تیار ہونے کا انتظار کرتے اور وہاں ٹھہرنے کی وجہ سے بطورِ کفارہ16دینار خیرات کرتے تاکہ ہر دن کے عوض میں ایک دینار ہوجائے ۔
عراق میں مصیبت:
	ایک جماعت نے عراق کی بھی َمذمَّت کی ہے جن میں حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز اور حضرت سیِّدُنا کعب الاحباررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابھی شامل ہیں۔حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنے ایک غلام سے پوچھا:تم کہاں رہتے ہو؟اس نے جواب دیا:عراق میں۔آپ نے پوچھا :تم وہاں کیا کرتے ہو؟مجھے خبر پہنچی ہے کہ جو شخص عراق میں رہتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے مصیبت کو مقدر کر دیتا ہے ۔