عیب نکالنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قضا پر راضی رہنے کے خلاف ہے کیونکہ کسی چیز کی مذمت اس کے بنانے والے کی مَذَّمت ہے اور ہر چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کی ہوئی ہے اور کوئی اس طرح کہے:”فقر آزمائش ہے ،اہل و عیال غم اور تھکاوٹ کا باعث ہیں ،پیشہ اختیار کرناتکلیف اور مشقت ہے ۔“یہ تمام باتیں رضا میں خلل ڈالتی ہیں بلکہ بندے کو چاہئے کہ وہ تدبیر اور مملکت کو اس کے مُدبِّراور مالک کے سپرد کر دے اور وہ کہے جوامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا تھا:” مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تَوَنگَرِی کی حالت میں صبح کروں یا فقر کی حالت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے میرے لئے کونسی حالت بہتر ہے ۔“
چوتھی فصل :گناہوں کی سرزمین سے بھاگنا اور اس کی مَذَمَّت
کرنا رضا میں خلل نہیں ڈالتا
جان لیجئے کہ بسا اوقات کوتاہ نظر آدمی گمان کرتا ہے کہ رسولِ اکرم،شفیعمُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طاعون والے شہر سے نکلنے کو منع فرمانا(1) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس شہر میں گناہ ظاہر ہوجائیں وہاں سے بھی نکلنا منع ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں قضائے الٰہی سے بھاگنا لازم آتا ہے حالانکہ ممانعت کی وجہ یہ نہیں بلکہ طاعون ظاہر ہونے کے بعد اس شہر سے نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسے شہر سے جانے کی اجازت ہوتو تندرست لوگ وہا ں سے چلے جائیں گے اور بیمار لوگوں کی تیمارداری کے لئے کوئی نہیں بچے گایوں وہ تنہا رہ جائیں گے اور لاغری اور بیماری سے مر جائیں گے ۔یہی وجہ ہے ایک روایت میں رسولِ کریم،رَءُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے طاعون سے بھاگنے کو میدانِ جنگ سے بھاگنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔(2)
اوراگر ممانعت قضائے الٰہی سے بھاگنے کی وجہ سے ہوتی تو طاعون زدہ شہر کے قریب پہنچنے والے شخص کو وہاں سے پلٹ جانے کی اجازت نہ دی جاتی اور اس کا حکم ہم نے ”توکل کے بیان“میں ذکرکر دیا ہے ۔پھر جب ممانعت کی وجہ معلوم ہو گئی تو ظاہر ہو گیا کہ گناہوں کی سرزمین سےہجرت کرجانا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قضا سے بھاگنے میں داخل نہیں بلکہ جہاں سے ہجرت ضروری ہے وہاں سے ہجرت اختیار کرنا بھی قضائے الٰہی میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الطب، باب ما یذکر فی الطاعون، ۴/ ۲۸،حدیث:۵۷۲۸
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السيدة عائشة،۹/ ۴۷۸،حدیث:۲۵۱۷۲