Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
19 - 784
 ہے جیسے اصْلِ وجود کا دوام پسند ہوتا ہے اور یہ دستورِ الٰہی کے مطابق ایک طبعی اور فطرتی چیز ہے۔
وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیۡلًا ﴿۶۲﴾ (پ۲۲،الاحزاب:۶۲)	ترجمۂ کنز الایمان:اور تم اللہکا دستورہرگز بدلتا نہ پاؤگے ۔
اپنی ذات اورمال واولادوغیرہ سے محبت کی وجہ:
	مذکورہ گفتگوکا حاصل یہ ہے کہ انسان کوسب سے پہلے اپنی ذات محبوب ہوتی ہے ،پھر اپنے اعضاء کی سلامتی، پھر اپنا مال، اولاد،خاندان اور دوست محبوب ہو تے ہیں ۔اعضاء اور ان کی سلامتی اس لئے محبوب ہوا کرتی ہے کہ وُجود کا کمال اور دوام اس پر موقوف ہے اور مال اس لئےمحبوب ہوتا ہے کہ وہ بھی وجود کے دوام اور کمال کا سبب ہوتا ہے اور یہی حال باقی تمام اسباب کا ہے ۔پس انسان ان اشیاء سے محبت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس وجہ سے کہ وجودِ انسانی کے دوام اور کمال میں ان چیزوں کا دخل ہوتا ہے حتّٰی کہ انسان اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے اگرچہ اس کو اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے بلکہ اس کی خاطرمَشَقَّتَیْں اٹھانا پڑیں۔یہ صرف اس لئےکہ اس  کی موت کے بعد بیٹا اس کا نائب ہوتا ہے تو بقائے نسل میں ایک طرح سے اس کی بقا ہوتی ہے اور اپنی ذات کی بقا انتہائی محبوب ہونے کی وجہ سے اُس کی بقا محبوب ہوتی ہے جو اس کے قائم مقام ہوتا ہے گویا کہ وہ اس کا ایک جز ہے اور اس لئے بھی کہ وہ اپنی ذات کی بقا کی طَمَع سے عاجز ہے۔ ہاں!اگر اس کو اپنی ذات اور اپنے بیٹے کے قتل میں اختیار دیا جا ئے اور یہ مُعْتَدِل طبیعت پر باقی ہو تو بیٹے کی بقا پر اپنی ذات کی بقا کو ترجیح دے گا کیونکہ بیٹے کی بقا بھی ایک وجہ سے اس کی بقا ہے لیکن بعینہٖ اس کی بقا نہیں۔ اسی طرح آدمی کا اپنے اقارب اور خاندان والوں سے محبت کرنا بھی اپنے نفس کے کمال سے محبت کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے یہ اپنے نفس کو کثیر اور قوی پاتا ہے اور ان کے کمال کو اپنے لئےفخر کا باعث سمجھتا ہے اس لئےکہ خاندان،مال اور خارجی اسباب پَر کی طرح ہیں جن سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے اور لازمی طور پر کمالِ وُجود اور دوامِ وجود طبعی طورپر محبوب ہوتے ہیں ۔معلوم ہوا کہ ہر زندہ کے نزدیک پہلا محبوب اس کی اپنی ذات اور اس کا کمال اور دوام ہے اور اس کی ضد ناپسند ہوتی ہے تو یہ محبت کا پہلا سبب ہے۔
دوسرا سبب:احسان
	محبت کادوسراسبب احسان ہےکیونکہ منقول ہے:’’اَلْاِنْسَانُ عَبْدُالْاِحْسَان یعنی انسان احسان کا غلام ہے۔“