ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:’’اَلۡقَدَرُ سِرُّ اللّٰہ ِ فَلَا تُفۡشُوۡہُیعنی تقدیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا راز ہے اسے فاش نہ کرو۔“(1)اور اس کا تعلق علمِ مکاشَفہ سے ہے اور یہاں ہمارا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے پر راضی رہنا اور گناہوں سے نفرت کرنا با وجود یہ کہ گناہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہیں دونوں کو جمع کرنا ممکن ہے اور کشفِ رازکی حاجت کے بغیر غرض پوری ہو گئی۔
دعا تقدیر کے خلاف نہیں:
اسی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ گناہوں سے بچنے کی دعاکرنا،مغفرت طلب کرنا اور تما م اسباب جو دین پر معاون ہیں یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تقدیر پر راضی رہنے کے خلاف نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں کو دعا کا مکلّف بنایا ہے تا کہ دعا کے ذریعے ان میں ذکر کی صفائی، قلبی خُشوع اور رقت و عاجزی پیدا ہو اور یہ قلبی جَلاکشف کی چابی اور مسلسل الطاف و کرم کا سبب ہوجائے۔جس طرح پیاس کے وقت کوزہ اٹھانا اور پانی پینا قضائے الٰہی پر راضی ہونے کے خلاف نہیں اور پیاس دور کرنے کے لئے پانی پینا اور اسباب کو اختیار کرنا جن کومُسَبِّبُ الْاسْباب نے پیدا کیا ہے رضا کے خلاف نہیں۔یوں ہی دعا ایک سبب ہے جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پیدا فرمایا ہے اور اس کا حکم دیا ہے ۔
شکوہ خلافِ رضا ہے:
ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عادتِ جاریہ کے مطابق اسباب کو اختیار کرنا توکُّل کے منافی نہیں اور اس کو ہم نے ” توکل کے بیان“میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ بھی رضا کے خلاف نہیں کیونکہ رضا ایک مقام ہے جو توکل کے ساتھ متصل ہے ۔البتہ !شکوہ کے طورمصیبت کا اظہار کرنا اور دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ناراض ہونا رضا کے خلاف ہے جبکہ شکر اور قدرتِ الٰہی ظاہر کرنے کے طور پر تکلیف کا اظہار کرنارضا کے خلاف نہیں ۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر پر حُسنِ رضا میں سے ہے کہ بندہ (بطورِ شکوہ)یہ نہ کہے:’’آج بہت گرمی ہے۔‘‘یہ گرمیوں میں کہنے کی صورت میں ہے لیکن سردیوں میں اس طرح کہنا شکر میں داخل ہے۔شکوہ ہر حال میں رضا کے خلاف ہے ،اسی طرح کھانے کی اشیاء کو برا کہنا اور ان میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الکامل فی ضعفاء الرجال ،۸/ ۳۹۷، الرقم:۲۰۱۸الھیثم بن جماز بصری