محبوب کا محبت کے دعویدار شخص کو اتنا مارنا کہ وہ غصے میں آجائے پھر غصے کی وجہ سے گالی دےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اپنے گناہ گار بندے سے ناراض ہونا اگرچہ بندے کا گناہ کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تدبیر سے ہو ایسا ہی ہے جیسے گالی کھانے والا گالی دینے والے سے ناراض ہوتا ہے اگرچہ اس کے گالی دینے میں خود گالی کھانے والے کی تدبیر اور اسباب اختیار کرنے کا دخل ہواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اپنے بندوں کے ساتھ یہ فعل یعنی ان پر گناہ کے اسباب مسلط کر دینا اس پر دلالت کرتا ہےکہ پہلے سے ہی اس کی مشیت میں بندے کو دور کرنا اور اس پر ناراض ہوناہے۔لہٰذا جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہو اس سے یہ بھی ناراض ہو اور جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ غضب فرمائے اس پر یہ بھی غصہ کرے اور جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی بارگاہ سے دور کردے اس سے یہ بھی عداوت رکھے اگرچہ وہ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے غلبہ اور قدرت کی وجہ سے اس کی دشمنی اور مخالفت پر مجبور ہوا مگر پھر بھی وہ بارگاہ ِالٰہی سے دور ،مردود اور ملعون ہے اگرچہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دور کرنے سے دور ہوا ہو پھر بھی جو دَرَجاتِ قُرب سے دور کیا گیا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کے نزدیک مبغوض اور قابلِ نفرت ہونا چاہئے تاکہ محبوب کے ساتھ موافقت ہوجائے کہ جس کو محبوب نے اپنی بارگاہ سے دور کر کے اس پر غصے کا اظہار کیا اس پر محب بھی غصے کا اظہار کرے۔
اس گفتگوسے وہ تمام روایات مزید پختہ ومستحکم ہوگئیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے اس کے لئے عداوت اور محبت کرنے ،کفار پر سختی کرنے اور ان سے انتہائی نفرت کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور یہ تمام روایات تقدیر کے راز سے مدد چاہتی ہیں جس کے اِفشا(ظاہر کرنے ) کی بالکل اجازت نہیں اور وہ یہ ہے کہ شر اور خیر دونوں مَشِیَّت اور ارادے میں داخل ہیں لیکن شر مکروہ اور ناپسندیدہ مراد ہے جبکہ خیر پسندیدہ مراد ہے لہذا جو کہے: ”شر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے نہیں ہے ۔“وہ جاہل ہے۔ اسی طرح جو یہ کہے:” شر اور خیر دونوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہیں اور ان میں رضا اور کراہت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ۔“وہ بھی کوتاہی کرنے والا ہے ۔
رازِ الٰہی کو فاش نہ کرو:
اس مسئلَۂ تقدیر کی تشریح کرنے کی اجازت نہیں اس لئے سُکوت اور شرعی آداب کو ملحوظ رکھنا اولیٰ