Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
187 - 784
سبب ہے ،تو اس حیثیت سے کہ یہ فعل تمہارے ارادے اور تدبیر کے موافق ہوا ہے اورمیں اس پر راضی ہوں اس لئے کہ اگر تمہارا مقصد حاصل نہ ہوتا تو تمہاری تدبیر میں نقصان اور مراد میں اِلْتِوا ہوتا اور مجھے تمہاری مراد کا حاصل نہ ہونا پسند نہیں۔لیکن اس جہت سے کہ یہ فعل اس شخص کا وصف ، کسب اور زیادتی ہے اور اس کی طرف سے تم پر جرأت ہے جو تمہارے جمال کے تقاضے کے خلاف ہے کیونکہ تمہارے جمال کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ تمہاری مار کو برداشت کرتا اور اس کے بدلے میں گالی نہ دیتا پس  اس جہت سے کہ یہ فعل اس شخص کی طرف منسوب ہے اور اس کا وصف ہے میں اس کو برا جانتا ہوں اس وجہ سے نہیں کہ وہ تمہاری مراد ہے یاتمہاری تدبیر کا تقاضا ہے۔رہا تمہارا اس سے گالی کی وجہ سے نفرت کرنا تو میں اس پر راضی اور خوش ہوں کیونکہ یہ تمہاری مراد ہے اور تمہاری موافقت کرتے ہوئے میں بھی اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ محبت کی شرط یہ ہے کہ وہ محبوب کے محب کا محب اور اس کے دشمن کا دشمن ہو۔پھر یہ کہ اس شخص کے تم سے نفرت کرنے کو بھی میں پسند کرتا ہوں کیونکہ تم نے خود یہ چاہا تھا کہ وہ تم سے نفرت کرے ،اس لئے کہ تم نے اس کو اپنی ذات سے دور کردیا اور اس پر نفرت کے اسباب مُسَلَّط کر دیئے۔مگر میں اس سے نفرت اس لئے  کرتا ہوں کہ یہ (نفرت کرنا) اس نفرت کرنے والے کا وصف،اس کا کسب اور اس کا فعل ہے لہٰذا میں اس سے ناراض ہوں ۔پس میرے نزدیک وہ اس لئے  مبغوض ہے کیونکہ وہ تم سے بغض رکھتا ہے اور اس کا تم سے ناراض ہونا اورتم سے نفرت کرنا مجھے نا پسند ہے، اس اعتبار سے کہ یہ اس کا وصف ہے اوریہ تمام افعال چونکہ تمہاری مراد ہیں اس لئے  پسندیدہ ہیں۔
	اس مثال میں تناقض اس وقت ہوگا جب وہ یہ کہےکہ” تمہاری مراد ہونے کی وجہ سے وہ پسند ہے اور تمہاری مراد ہونے کی وجہ سے وہ نا پسند ہے۔“لیکن اگر غیر کا وصف اور کسب ہونے کی وجہ سے ناپسند ہو اور اپنے محبوب کی مراد ہونے کی وجہ سے پسند ہو تو اس میں کوئی تناقض نہیں اور ہر وہ بات جو ایک جہت سے ناپسند اور دوسری جہت سے پسند ہو وہ اس پر شاہد ہے ۔
مثال کا ماحاصل:
	معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندے پر گناہ اور شہوت کے اسباب مسلط کرنا اور ان کا گناہ کی محبت تک کھینچ کر لےجانا اور پھر گناہ کی محبت   کا فعل(ارتکابِ گناہ) تک لے جانااس مثال کے مشابہ ہے جو ہم نے بیان کی یعنی