Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
186 - 784
 دونوں ایک چیز پر ایک جہت سے وارد ہوں ،لیکن اگر ایک چیز میں رضا ایک جہت سے ہو اور کراہت کسی دوسری جہت سے تو تضاد بالکل نہیں ہےجیسے بعض اوقات تمہارا وہ دشمن مر جاتا ہے جو تمہارے کسی دشمن کا بھی دشمن اور اس کی ہلاکت کے لئے کوشاں ہوتا ہے تو تم اس کی موت کو اس جہت سے تو نا پسند کرتے ہو کہ تمہارے دشمن کا دشمن مر گیا لیکن اس وجہ سے تمہیں اچھا لگے گا کہ تمہارا دشمن مر گیا ۔اسی طرح معصیت وگناہ کی بھی دوجہتیں ہیں:ایک کا تعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے ہے وہ یوں کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فعل ،اختیار اور اس کے ارادے سے ہوئی پس اس جہت سے بندہ اس پر راضی ہوگا کہ مالک اپنی چیز میں جو چاہے اور جیسا چاہے تَصَرُّف کرےاور ایک کاتعلق بندے سے ہے وہ اس طرح کہ گناہ اس کا کَسْب اور وصف ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں بندے کے نا پسند اور مبغوض ہونے کی علامت ہے کیونکہ اس نے بندے پر دوری اور ناراضی کے اسباب مسلط فرما دیئےتو اس جہت سے گناہ بُری  اور قابِل مذمَّت شے ہے اور یہ بات ایک مثال سے ہی واضح ہوگی۔
ایک مثال:
	فرض کیجئے کہ  ایک محبوب اپنے محبین کے سامنے کھڑا ہوکر کہے:” میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کون مجھ سے محبت کرتا ہے اور کون مجھ سے بغض رکھتا ہے اور اس کے لئے ایک کھری اور سچی کسوٹی(جانچنے کا طریقہ)مقرر کرتا ہوں وہ یہ کہ میں فلاں شخص کو ایذا پہنچاؤں اور اس کو اتنا ماروں کہ وہ مجھے گالی دینے پر مجبور ہو جائے حتّٰی کہ جب وہ مجھے گالی دے گا تو میں اس سے نفرت کروں گا اور اس کو اپنا دشمن سمجھوں گا پس جو اس سے محبت وہمدردی ظاہرکرے گا مجھے معلوم ہو جائے گا کہ وہ بھی میرا دشمن ہے اور جو اس سے نفرت ظاہر کرے گا میں سمجھ جاؤ ں گا کہ وہ میرا دوست اور مُحب ہے ۔“پھر اس نے ایسا ہی کیا اور ا س کی مراد پوری ہوئی یعنی جس کو مارا اس نے گالی دی جو کہ نفرت کا سبب تھا اور نفرت بھی پیدا ہوگئی جو عداوت کا سبب تھی۔ ایسی صورت میں ہر وہ شخص جو اپنی محبت میں سچا اور شرائطِ محبت جانتا ہے اس پرلازم ہے کہ یوں کہے:تم نے جو اس شخص کو ایذا دینے ،مارنے، دھتکارنےاور بغض و عداوت پر اُبھارنے کی تدبیر کی ہے یہ مجھے پسند آئی اور میں اس پر راضی ہوں کیونکہ یہ تمہاری رائے،تدبیر،فعل اور ارادہ ہے لیکن اس شخص کا تمہیں گالی دینا زیادتی ہے کیونکہ اس پر لازم تھا کہ صبر کرتا۔مگر تم نے اس سے یہی چاہا تھا کیونکہ اس کو مارنے سے تمہارا مقصد یہی تھا کہ وہ تمہیں گالی دے جو نفرت کا