جس سے محبت اُسی کا ساتھ:
رحمَتِ عالَم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:’’اَلۡمَرۡءُ مَعَ مَنۡ اَحَبَّہٗیعنی آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔“(1)
پیارے آقا،دو عالَم کے داتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : جو کسی قوم سے محبت اور دوستی رکھے گا بروزِ قیامت انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔(2)
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:ایمان کی رسیوں میں سب سے مضبوط رسی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محبت کرنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےبغض رکھنا ہے ۔(3)
اس کے تفصیلی دلائل ہم’’آدابِ صحبت‘‘ کے بیان میں’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے بغض رکھنے‘‘ کے تحت اور”اَمۡرٌ بِا لۡمَعۡرُوْف وَ نَھۡیٌ عَنِ الۡمُنۡکَر“ کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں لہٰذا یہاں دوبارہ ذکر نہیں کریں گے ۔
ایک سوال اوراس کا جواب:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر پرراضی رہنے کے بارے میں آیات اور احادیث وارد ہوئی ہیں۔پس اگر معاصی قضائے الٰہی کے بغیر ہیں تو یہ محال اور عقیدۂ توحید میں رخنے کا باعث ہیں اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہیں تو پھر ان کو بُرا جاننا اور ان پر ناراض ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر کو نا پسند کرنا ہے تودو ضدیں کس طریقے سے جمع ہوں گی ؟ اور ایک ہی بات میں رضا اور ناپسندیدگی کو کیسے جمع کیا جا سکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جان لیجئے!یہ امر کمزور اور اسرارِ عُلوم سے نا واقف لوگوں پر مشتبہ ہوتا ہےاور بعض لوگوں کو اشتباہ ہوا حتّٰی کہ انہوں نے گناہوں پر سُکوت اختیار کرنے کو مقامِ رضا سمجھا اور اس کا نام حُسنِ خُلق رکھا یہ محض جہالت ہے ۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رضا اور کراہت اس وقت ایک دوسرے کی ضد ہیں جب یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الادب، باب علامةحب اللّٰہ…الخ ،۴/ ۱۴۷،حدیث:۶۱۶۸
2…المسند للامام احمد بن حنبل،مسندالسیدةعائشة،۹/ ۴۷۸،حدیث:۲۵۱۷۵
3…مسند ابی داود الطیالسی، البراء بن عازب،ص۱۰۱،حدیث:۷۴۷