Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
183 - 784
غائب ہونے کے باوُجود شریکِ گناہ:
(3)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا:بے شک بندہ گناہ کے وقت غائب ہوتا ہے لیکن اس پر اتنا ہی گناہ ہوتا ہے جتنا گناہ کرنے والے موجود شخص پر۔عرض کی گئی :وہ کیسے؟ ارشادفرمایا:اس کو گناہ کی خبر پہنچتی ہے تو اس پر راضی ہوتا ہے ۔
راضی ہونے والا بھی قاتل:
	حدیثِ پاک میں ہے:
(4)…اگر کوئی بندہ مشرق میں قتل ہو اور دوسرا بندہ مغرب میں اس کے قتل پر راضی ہو تو وہ بھی اس کے قتل میں شریک ہے۔(1)
قابل رشک لوگ :
	بلاشبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نیکی کے کاموں پر رشک کرنے اور للچانے کا جبکہ بُرے کاموں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾ (پ۳۰،المطففین:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اسی پر چاہئے کہ للچائیں للچانے والے۔
	تاجدارِ مدینہ،راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:رشک نہیں ہے مگر دو آدمیوں پر۔ایک وہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکمت ودانائی عطا فرمائی اور وہ اس کو لوگوں میں پھیلاتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مال عطا فرمایا ہے اور وہ اس کو راہِ حق میں خرچ کرتا ہے ۔(2)
	 ایک روایت یوں ہے:دو آدمی ہی قابلِ رشک ہیں: ایک وہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مال عطا فرمایا ہے اور وہ اس کو دن اوررات کے اوقات میں خرچ کرتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ پاک کی محبت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…موسوعة  الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، باب الورع فی الفرج، ۲/ ۲۲۳،حدیث:۱۱۲،بتغیر
2…بخاری ،کتاب العلم، باب الاغتباط فی العلم والحكمة،۱/  ۴۳،حدیث:۷۳،بتقدم وتاخر