صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا بکثرت دعا کرناجیسا کہ ”دعاؤں کے بیان “میں گزرا ،اس پر دلالت کرتا ہےاور رسولِ اکرم ،شفیعمُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو رضا کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بعض بندوں کی تعریف اس طرح فرمائی ہے:
یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ (پ۱۷،الانبیاء:۹۰) ترجمۂ کنز الایمان:ہمیں پکارتے تھے اُمید اور خوف سے۔
گناہوں کو بُرا جاننے پر آیاتِ طیبہ:
اور رہا گناہوں کو نا پسند کرنا اور انہیں براجاننا اور ان پر راضی نہ ہونا توبے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کو اس کا مُکَلَّف بنایا ہے اور ان پر راضی ہونے والوں کی مَذَمَّت فرمائی ہےچنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
وَ رَضُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوۡا بِہَا (پ۱۱،یونس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے۔
اور ارشاد فرماتاہے:
رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ وَطَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ (پ۱۰،التوبة:۹۳)
ترجمۂ کنز الایمان: انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی۔
گناہوں کو بُرا جاننے کے متعلق چارروایات :
مشہور حدیثِ پاک ہے:
(1)…مَنۡ شَھِدَ مُنۡکَرًا فَرَضِیَ بِہٖ فَکَاَنَّہٗ قَدۡ فَعَلَہٗیعنی جو کسی بُرائی کے وقت موجود ہو اور اس پر راضی رہے تو گویاوہ برائی کا مرتکب ہوا۔(1)
حدیثِ شریف میں ارشاد فرمایا:
(2)… اَلدَّالُ عَلَی الشَّرِّ کَفَاعِلِہٖیعنی بُرائی کا راستہ دکھانے والا برائی کرنے والے کی طرح ہے ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند ابی یعلی الموصلی، مسند الحسین بن علی بن ابی طالب،۶/ ۳۳،لحدیث:۶۷۵۲،مفھومًا
2…فردوس الاخبار ، باب الدال،۱/ ۳۹۶،حدیث:۲۹۴۳