عشق میں بِلاموت بھلائی نہیں :
(4)…حضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہ بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں :میں نے بصرہ میں ایک نوجوان کو بلندوبالا اونچی چھت پر دیکھا کہ جھانک جھانک کر لوگوں سے کہہ رہا تھا:
مَنۡ مَاتَ عِشۡقًا فَلۡیَمُتۡ ھٰکَذَا لَا خَیۡرَ فِی عِشۡقٍ بِلَا مَوۡت
ترجمہ:جو عشق میں مرنا چاہے وہ اس طرح مرے کیونکہ عشق میں موت کے بغیر کوئی بھلائی نہیں۔
پھر اس نے خود کو چھت سے نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اس کو مردہ حالت میں اٹھایا ۔
جب اس طرح کے واقعات مخلوق کی محبت میں ہو سکتے ہیں تو خالق عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں بطریْقِ اولیٰ ہوسکتے ہیں کیونکہ ظاہری بصارت کی بنسبت باطنی بصیرت زیادہ صداقت پر مبنی ہوتی ہے اور بارگاہِ ربانی کا جمال ہر جمال سے کامل تر ہے بلکہ کائنات کا سارا جمال اسی جمال کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے۔ہاں جو شخص آنکھ سے محروم ہو وہ صورتوں کے جمال کا انکار کرتا ہے اور جس کی قوتِ سماعت نہ ہو وہ خوبصورت اور موزوں کلام کی لذت کا انکار کرتا ہے اور جس کا دل ہی نہ ہو لازمی طور پر وہ ان تمام لذات کا انکار کرے گا جن کا ادراک بغیر دل کے نہیں کیا جا سکتا ۔
تیسری فصل: دعا کے رضا کے خلاف نہ ہونے کا بیان
اہل باطل کی لاعلمی اور غفلت:
واضح رہے کہ دعا مانگنے والا مقامِ رضا سے خارج نہیں ہوتا۔ اسی طرح گناہوں سے نفرت کرنا اور گناہ کے مرتکب سے ناراض ہونا اور اسبابِ گناہ کو برا جاننااور اَمۡرٌ بِالۡمَعۡرُوف وَ نَھۡیٌ عَنِ الۡمُنۡکَرکے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنابھی رضا کے خلاف نہیں ہے۔اس بارے میں بعض اہْلِ باطل اور حقیقت سے بے خبر لوگوں سے غلطی ہوئی ۔انہوں نے سمجھا کہ گناہ ، فسق و فجور اور کفر، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قضا و قدر سے ہیں لہٰذا اس پر راضی رہنا واجب ہے ۔اوریہ بات تاویل سے لاعلمی اور اسرارِ شرع سے غفلت پر مبنی ہے۔
دعاکرنے والوں کی تعریف وتوصیف:
بہر حال جہاں تک دعا کا تعلق ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کو ہمارے لئے عبادت ٹھہرایا ہے رسولِ اَکرم