Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
180 - 784
 مجھے مرنے کی اجازت دیتی ہو؟“اس نے کہا:” اگر تو سچا ہے تو مر جا۔“چنانچہ اُس نوجوان نے اپنا سر تکیے پر رکھا،منہ کو چھپایا اور آنکھیں بند کر لیں،ہم نے اس کو ہلاکر دیکھا تو وہ مر چکا تھا ۔
تم کہو تو مرجاؤں:
 (2)…حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ ایک بچے کی آستین پکڑے اس کے سامنے عاجزی و زاری کرتے ہوئے اس سے محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ بچے نے اس کی طرف متوجہ ہوکر کہا:تم کب تک اس منافقت کو میرے سامنے ظاہر کرتے رہو گے؟اس شخص نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّجانتا ہے(1)  کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں حتّٰی کہ اگر تو مجھ سے کہے کہ مر جا تو میں مر جاؤں گا۔ یہ سن کر بچے نے کہا :اگر تو سچا ہے تو مر جا۔چنانچہ وہ شخص علیحدہ ہوا اور اپنی آنکھیں بند کیں تو اس کو مردہ حالت میں پایا گیا۔
تیری آہ کا نتیجہ:
(3)…حضرت سیِّدُنا سَمْنُون مُحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک شخص تھا اور اس کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ انتہائی محبت کرتا تھا ۔ایک بار وہ بیمار ہو گئی تو وہ شخص اس کے لئے  حلوہ تیار کرنے لگا ۔ وہ ہنڈیا میں چمچہ ہلا رہا تھا کہ اسی دوران لونڈی کے منہ سے ایک’’آہ‘‘نکلی تووہ شخص” آہ“ کی آواز سن کر مد ہوش ہو گیا اورچمچہ اس کے ہاتھ سے گر گیا اور چمچہ کی جگہ اپنے ہاتھ کو ہی ہنڈیا میں پھیرنے لگا حتی کہ اس کی انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ لونڈی نے پوچھا :یہ کیا؟اس نے کہا :یہ تیری” آہ“ کا نتیجہ ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…یہاں چونکہ ایک جملہ آیا ہے”اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے “ہمارے عرف میں بھی یہ جملہ بولا جاتا ہے اور اسے بولنے میں بہت زیادہ احتیاط برتنی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ جملہ بول کر ہم کسی آفت میں پھنس جائیں کیونکہ کبھی اس طرح کہنے پر سخت شرعی حکم لگتا ہے۔چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 692صفحات پرمشتمل کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“کے صفحہ581 پردیا گیا  ایک سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیے: سُوال: جھوٹی بات پر یہ کہنا کیسا کہ اللہ جانتا ہے میں سچ بول رہا ہوں؟جواب:کسی بھی جھوٹی بات پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو گواہ بنانا یا جُھوٹی بات پر جان بوجھ کر یہ کہنا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجانتا ہے یہ کلمَۂ  کفر ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں: جو شخص کہے: ’’اللہجانتا ہے کہ یہ کام میں نے کیا ہے حالانکہ وہ کام اِس نے نہیں کیا ہے‘‘تو اس نے کفر کیا۔ (مِنَحُ الرَّوْض،ص۵۱۱)