ہیں کہ ”جب تک مُحِب کو محبوب کی ذات کے ادراک کے علاوہ کوئی اور فائدہ نہ ہو انسان کا غیر سے اس کی ذات کی وجہ سے محبت کرنا ممکن نہیں۔“ اور حق یہ ہے کہ ایسا ہوناممکن ہی نہیں بلکہ پایابھی جاتا ہے۔
محبت کے پانچ اسباب
پہلاسبب :اپنی ذات سے محبت
یہاں ہم محبت کے اسباب اور اس کی اقسام بیان کرتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہرزندہ کا پہلا محبوب اس کی ذات ہوتی ہے اور اپنی ذات سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ”اس کی طبیعت میں اپنے وجود کی بقاء اور دوام کا میلان ہو اور اپنے عدمِ وجود اور ہلاکت کی نفرت ہو“کیونکہ طبعاً وہی چیز محبوب ہوا کرتی ہے جو محب کے مناسب ہو اور اپنے نفس اور اس کے دائمی وجود سے بڑھ کر کونسی چیز مناسب ہوگی اور اپنے عدمِ وجود اور ہلاکت سے زیادہ کونسی چیز قابلِ نفرت ہوگی؟ یہی وجہ ہے کہ انسان دائمی وجود کو پسند کرتا ہے اور موت و قتل کو ناپسند کرتا ہے۔ محض اس لئے نہیں کہ موت کے بعد والے امور سے ڈرتا ہے اور نہ ہی صرف اس وجہ سے کہ موت کی سختیوں سے بچنا چاہتا ہے بلکہ اگر بغیر تکلیف کے اچانک موت آجائے یا ثواب وعذاب کے بغیر موت دی جائے تو وہ راضی نہ ہو اور اس کو ناپسند جانے گا اوراگر کبھی موت اور معدوم ہوجانے کو پسند کرتا ہے تو اس وقت جب زندگی میں تکالیف پہنچیں اور جب جب کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تویہ بات محبوب ہوتی ہے کہ تکلیف زائل ہو۔ اگر یہ معدوم ہونے کو پسند کرتا تو اسی وجہ سے کہ اس میں زوالِ تکلیف ہے تو پتہ چلا کہ ہلاکت اور معدوم ہونامَبْغُوض(ناپسند) ہیں اور دائمی وجود محبوب(پسند) ہے۔
دائمی وُجود اور کمالِ وُجود کا محبوب ہونا:
پھر جس طرح دائمی وجود محبوب ہوتا ہے اسی طرح کمالِ وجود بھی محبوب ہوتا ہے کیونکہ ناقص میں کمال کا فُقْدان ہوتا ہے اور نقص وکمی کمال کی مفقود مقدارکے لحاظ سے معدوم اور کمال کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہلاکت ہے اور ہلاکت ومعدوم ہونا صفات میں ناپسند ہوتا ہے اور کمالِ وجود میں نقصان سے اسی طرح نفرت ہوتی ہے جس طرح اصْلِ ذات کے معدوم ہونے سے ہوتی ہے اور کمالِ صفات ایسے ہی محبوب ہوتا