(2)…تکلیف پر راضی رہنا کسی اور مقصد کے لئے نہ ہو بلکہ اس لئے کہ یہ محبوب کی مراد اور رضا ہے۔
مرادِ محب کامرادِ محبوب میں ڈوبنا:
بعض اوقات محبت کا اس طرح غلبہ ہوتا ہے کہ محب کی مراد محبوب کی مراد میں ڈوب جاتی ہے۔ایسی صورت میں اس کے نزدیک سب چیزوں سے زیادہ لذیذ اپنے محبوب کی قلبی خوشی اور رضا اور اس کے ارادے کا نفاذ ہوتا ہے اگرچہ اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائےجیسا کہ یہ مقولہ ہے:’’فَمَا لِجُرۡحٍ اِذَا اَرۡضَاکُمۡ اَلَمیعنی اُس زخم میں تکلیف کہاں جس میں تمہاری خوشی ہو۔“اوریہ رضا درد کے احساس کے با وُجود ممکن ہے۔
کبھی محبت اس طرح غالب ہوتی ہے کہ ادراکِ تکلیف سے مدہوش کر دیتی ہےچنانچہ قیاس،تجربہ اور مشاہَدہ ایسی حالت کے وُجود پر دلالت کرتے ہیں۔ا س لئے جو اپنے اندر ایسی حالت نہ پائے اسے اس کا انکار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کے نہ پائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا سبب نہیں پایا گیا اور سبب محبت کی زیادتی ہے اور جس نے محبت کا مزہ نہیں چکھا وہ اس کے عجائبات کو بھی نہیں پہچانتاتومحبت والوں کی جو باتیں ہم بیان کرچکے ہیں ان کے عجائب تو اس سے بھی بڑھ کر ہیں ۔
عاشقوں کے چار عجیب واقعات
ذِلَّتِ عشق کی نشانی:
(1)…عَمْرو بن حارث رافقی سے منقول ہے کہ میں اپنے ایک دوست کے پاس مقامِ رَقَّہ کی ایک مجلس میں تھا اور ہمارے ساتھ ایک نوجوان تھا جو ایک گانے والی لونڈی سے بہت عشق کرتا تھا اور وہ لونڈی بھی اسی مجلس میں موجود تھی۔ اس لونڈی نے راگ بجایا اور یہ اشعار کہے:
عَلَامَةُ ذُلِّ الۡھَوٰی عَلَی الۡعَاشِقِیۡنَ الۡبُکٰی
وَلَا سَیِّمَا عَاشِقٌ ذَا لَمۡ یَجِدۡ مُشۡتَکٰی
ترجمہ:عاشقوں کے لئے ذ لتِ عشق کی نشانی رونا ہے با لخصوص وہ عاشق جسے کوئی جائے شکایت نہ ملے۔
اشعار سن کر اس نوجوان نے لونڈی سے کہا :”اے میری سردار!قسم سے تم نے بہت خوب گایا ،کیا تم