Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
178 - 784
 عَلَیْہانہیں پتھر مارنے لگے اوروہ سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔اس پر  آپ نے فرمایا:” تمہیں کیا ہوا کہ مجھ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہو؟ اگر دعوٰی ٔمحبت میں سچے ہو تو میری تکلیف پر صبر کرو۔“
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شعر ہے:
اِنَّ الۡمَحَبَّةَ لِلرَّحۡمٰنِ اَسۡکَرَنِی		وَ ھَلۡ رَاَیۡتَ مُحِبًّا غَیۡرَ سَکۡرَان
	ترجمہ:بے شک رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکی محبت نے مجھے مدہوش کر رکھاہے اورکیا تم نے کوئی غیر مدہوش عاشق دیکھا ہے۔
 (26)…ایک شامی عبادت گزار نے فرمایا:تم سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ملو گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے تکذیب کی ہو  اور یہ اس لئے کہ اگر تم میں سے کسی کی انگلی سونے کی ہو تو اس سے اشارہ کرتا پھرتا ہے اور اگر اس میں کوئی عیب ہو تو اس کو چھپاتا ہے ۔
	ان بزرگ کی  اس سے مراد یہ ہے کہ سونا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ناپسندیدہ ہے جبکہ لوگ اس پر باہم فخر کرتے ہیں اور تکلیف اہْلِ آخرت کی زینت ہے جبکہ لوگ اس کو عار سمجھتے ہیں۔
حکایت:عمر بھر کے لئے  دُکان چھوڑ دی
(27)…منقول ہے کہ ایک دفعہ بازار میں آگ لگ گئی تو حضرت سیِّدُنا سَرِی سَقَطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو بتایا گیا کہ بازار جل گیا اور آپ کی دکان بچ گئی۔ آپ نے کہا:’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہ‘‘پھرفرمایا:صرف اپنا مال بچ جانے پر میں نے کیسے’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہ‘‘ کہہ دیا؟چنانچہ انہوں نے تجارت کو خیر باد کہہ دیا اور’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہ‘‘کہنے پر توبہ ومُعافی کی خاطر عمر بھر کے لئے  دُکان چھوڑ دی۔
حکایات سے حاصل ہونے والا نتیجہ:
	پس اگر تم ان حکایات میں غور کرو گے تو یقیناً جان لو گے کہ خواہشات کی مخالف باتوں میں رضا محال نہیں بلکہ وہ تو اہْلِ دین کے مقامات میں سے ایک بڑا مقام ہے اور جب یہ بات مخلوق کی محبت اور ان سے حصہ لینے میں ممکن ہے تو محبَّتِ الٰہی اور اُخروی حصہ لینے کے حق میں بھی یقیناًممکن ہے اور اس کا ممکن ہونا دو وجہ سے ہے:
(1)…متوقع ثواب کی وجہ سے تکلیف پر راضی رہناجس طرح شفا کے انتظار میں فَصْداورحَجامہ یعنی پَچھنے لگوانے اور دوا پینے پر راضی ہوتا ہے ۔