گیا:آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کریں کہ وہ بچہ آپ کو لوٹا دے۔انہوں نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے پر اعتراض کرنا مجھ پر میرے بیٹے کے جاتے رہنے سے زیادہ سخت ہے ۔
(22)…ایک عابد سے منقول ہے کہ ”مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ ہوگیا جس پر میں ساٹھ سال سے رو رہا ہوں۔“اور انہوں نے اس گناہ سے توبہ کے لئے بہت زیادہ عبادت کی ،جب ان سے پوچھا گیاکہ وہ گناہ کیا ہے؟انہوں نے جواب دیا:ایک مرتبہ کچھ ہوگیا تو میں نے یہ کہہ دیا:”کاش ایسا نہ ہوتا ۔“
(23)…ایک بزرگ کا قول ہے:اگر میرے جسم کو قینچیوں سے کاٹ دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی فیصلے کے بارے میں کہوں :”کاش ایسا نہ ہوتا۔“
50سالہ عیب دارمُعاملہ:
(24)…حضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زید بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو بتایاگیا کہ یہاں ایک شخص ہے جو پچاس سال سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کر رہا ہے تو آپ اس شخص سے ملنے گئے اور اس سے پوچھا: پیارے بھائی!مجھے اپنے حال کے بارے میں بتاؤ،کیاتم نے اسی ذات(یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ)پر قناعت کی؟اس نے کہا:نہیں۔آپ نے پوچھا :کیا اس سے اُنس ہوا ہے؟اس نے کہا :نہیں۔پوچھا:کیا تم اس سے راضی ہوئے ہو؟جواب دیا:نہیں۔ آپ نے پوچھا : اس کی طرف سے تمہارا حصہ صرف نماز روزہ ہی ہے؟اس نے کہا: ہاں۔اس پر آپ نے ارشادفرمایا:”اگر مجھے تم سے حیا نہ آتی تو میں تمہیں بتا دیتا کہ تمہارا معاملہ 50سال سے عیب دار ہے۔“
آخری جملے سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مراد یہ تھی کہ اتنی مدت سے تمہارے دل کا دروازہ نہیں کھلا تا کہ اعمالِ قلبی کے سبب دَرَجاتِ قُرب کی طرف ترقی کرتےاور تم صرف اصحابِ یمین میں ہی شمار ہوتے ہو کیونکہ اس ذات کی طرف سے تمہیں ظاہری اعمال سے ہی حصہ ملا ہے جو عام لوگوں کو بھی حاصل ہے ۔
محبت کا دعوٰی:
(25)…کچھ لوگ” مارَستان“ میں حضرت سیِّدُناشیخ ابو بکر شِبْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہاں قید تھے اور آپ نے اپنے سامنے بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے ۔ آپ نے ان سے فرمایا: تم کون لوگ ہو؟انہوں نے کہا:”آپ سے محبت کرنے والے ہیں ۔“ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی