میرے مرنے تک کسی کو نہ بتانا۔بے شک فرشتے میری زیارت کو آتے ہیں اور میں ان سے انس پاتا ہوں اور مجھ کو سلام کرتے ہیں اور میں ان کا سلام سنتا ہوں ۔اس سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری کوئی عذاب نہیں کیونکہ یہ تو عظیم نعمت کا سبب ہے ۔“
غور فرمائیے کہ جو اپنی بیماری میں ایسی باتوں کا مشاہدہ کرے گا وہ کیونکر راضی نہیں ہوگا؟
تکلیف میں معمولی کمی بھی گوارا نہیں:
)19(…حضرت سیِّدُنا مُطَرِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ہم حضرت سُوید بن مُثعَبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاں ان کی عیادت کے لئے گئے تو ہم نے ایک کپڑا پڑا ہوا دیکھا ہمارا گمان بھی نہیں تھا کہ اس کے نیچے کوئی چیز ہو گی حتّٰی کہ کپڑا ہٹانے پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے نیچے سے ظاہر ہوئے تو ان کی زوجہ نے ان سے کہا :آپ کے اہل آپ پر فدا ہوں! آپ کو کیا کھلائیں،کیاپلائیں؟انہوں نے فرمایا: عرصہ دراز سے لیٹا ہوں کہ سرین زخمی ہوگئے اور پرانے کپڑے کی طرح لاغر ہوگیا ہوں اتنی مدت سے کھانا پینا چھوڑرکھا ہے لیکن اس کیفیت میں ناخن برابر کمی کرنا بھی مجھے پسند نہیں۔
حکایت:ربّ تعالٰی کا فیصلہ بہتر ہے
(20)…حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمستجاب الدعوات تھے (یعنی جو دعا کرتے قبول ہوتی)۔ایک بار جب مکہ مکرمہ تشریف لائے اوراس وقت آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نابینا تھے ۔لوگ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور ہر ایک آپ سے دعا کی درخواست کرتا اور آپ سبھی کے لئے دعا کرتے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سائبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اس وقت نوعمر تھا۔ میں نے ان سے اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے پہچان گئے اور فرمایا تم مکہ والوں کے قاری ہو؟میں نے عرض کی :”جی ہاں۔“پھر کچھ اور باتیں ہوئیں ،آخر میں نے ان سے عرض کی :چچا جان! آپ لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں اپنے لئے بھی دعا کریں تا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی بینائی لوٹا دے ۔تووہ مسکرا دیئےاور ارشادفرمایا:”بیٹا!میرے نزدیک ربّ تعالٰی کا فیصلہ میری بینائی سے زیا دہ اچھا ہے۔“
(21)…ایک صوفی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا چھوٹا بیٹا گم ہو گیا اور تین دن تک اس کا پتا نہ چلا ۔ان سے کہا