اولیا کو خود پر قیاس مت کرو:
یہ ایسے شخص کا کلام ہو سکتا ہے جسے علم ہو کہ محبت نے اس کی تمام تر ہمت کو گھیر لیا ہے حتّٰی کہ اس کو آگ کی تکلیف کا احساس تک نہ ہونے دے اور اگر احساس ہو بھی تو اس پر اپنے محبوب کی رضا کے حُصول کی لذت چھا جائے اور ایسی حالت کا غلبہ ہو نا اپنی ذات کے اعتبار سے محال نہیں اگرچہ ہمارے کمزور احوال کی جہت سے بعید معلوم ہو۔لہٰذا کمزور اور محروم کے لئے مناسب نہیں کہ قوی لوگوں کے احوال کا انکار کرے اور گمان کرے کہ جس بات سے میں عاجز ہوں اس سے اولیا بھی عاجز ہیں ۔
قینچیوں سے کاٹ دیا جائے:
)17(…حضرت سیِّدُنا ابو علی احمد بن محمدروذباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناابو عبداللہ بن جلاء دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے پوچھا کہ فلاں شخص کا قول ہے کہ’’میں چاہتا ہوں میرا جسم قینچیوں سے کاٹ دیا جائے اوریہ لوگ اس کی اطاعت کریں۔‘‘اس کا کیا مطلب ہے؟تو انہوں نے فرمایا :”بھائی! اگر یہ بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم و تکریم کے لئے ہے تو مجھے معلوم نہیں اور اگر ڈرانے اور لوگوں کی خیر خواہی کے لئے ہے تو میں جانتا ہوں ۔“حضرت سیِّدُنا احمد روذباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:پھروہ بے ہوش ہوگئے ۔
حکایت:فَرِشتے زیارت کو آتے
)18(…حضرت سیِّدُنا عمران بن حُصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دست کا مرض لگ گیا اور آپ30 سال تک چت لیٹے رہے، نہ کھڑے ہو سکتے تھے اور نہ بیٹھ سکتے تھے ۔ آپ کے لئے چارپائی میں سوراخ کر کے قضائے حاجت کے لئے جگہ بنائی گئی تھی۔ایک دن حضرت سیِّدُنامُطَرِّف بن عبداللہ بنشِخِّیر اپنے بھائی ابو العلاء یزید بن عبداللہ بن شِخِّیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکے ساتھ آئے اور ان کا حال دیکھ کر رونے لگے۔حضرت سیِّدُنا عمران بن حُصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کیوں روتے ہو؟ جواب دیا :اس لئے کہ آپ کو اتنی سخت حالت میں دیکھ رہا ہوں ۔فرمایا:مت رو کیونکہ جو باتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کو زیادہ پسند ہے وہ مجھے بھی زیادہ پسند ہے ۔پھر فرمایا:”میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں امید ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں اس سے نفع پہنچائے اور