Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
174 - 784
 پھر اس نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی صحبت اختیار کی اور آپ کے ساتھ ہی مصروفِ عبادت ہوگیا ۔
پاؤں کٹوادیا:
)13(…حضرت سیِّدُناعُروہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مرض آکلہ (عضو کو ختم کردینے والے خارشی مرض) کی وجہ سے اپناایک پاؤں گھٹنے سے کٹوا دیا پھر کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے مجھ سے ایک لے لیا اور تیری ذات کی قسم! اگر تو نے لے لیا تو باقی بھی تو نے رکھا تھا اور اگر تو نے آزمائش میں ڈالا تو عافیت بھی تو نے دی تھی ۔پھر رات بھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہی کہتے رہے۔ 
دو سواریاں:
)14(…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے :فقر اور دولت مندی دو سواریاں ہیں مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ان دونوں میں سے کس پر سوار ہوں،اگر فقر ہے تو اس میں صبر ہے اور اگر دولت مندی ہے تو اس میں خرچ کرنا ہے ۔
مقام رضا کی خوشبو:
)15(…حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں کہ  میں نے سوائے رضا کے ہر مقام سے ایک کیفیت پائی ہے مگر مقامِ رضاکی صرف خوشبو سونگھی ہے اوراتنے ہی پرحال یہ ہے  کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام مخلوق کو جنت میں داخل فرما دے اور مجھے دوزخ میں ڈال دے تو میں اس پر راضی ہوں ۔
تقسیم الٰہی پر رِضا مندی:
)16(…ایک عارف سے پوچھا گیا:کیا آپ نے رضائے الٰہی کا انتہائی درجہ پا لیا ہے ؟انہوں نے جواب دیا :انتہائی درجے پر تو نہیں پہنچا البتہ مقامِ رضا کو پا لیا ہے اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے جہنم کا پل بنائے کہ لوگ مجھ پر سے گزر کر جنت میں داخل ہوجائیں پھر اپنی قسم پوری کرنے کے لئے  مخلوق کے  بجائے مجھ سے ہی جہنم کو بھر دے تو میں اس کے حکم کو پسند کروں گا اوراس کی تقسیم پر راضی رہوں گا۔