Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
173 - 784
حکایت: صبرورضا نے گرفتاری سے بچالیا
)11(…حضرت سیِّدُناابو عُکاشہ مسروق کوفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جنگل میں رہتا تھا۔اس کے پاس ایک کتا،ایک گدھا اور ایک مرغ تھا۔مرغ تو ان گھر والوں کو نماز کے لئے  جگایا کرتا تھا اور گدھے پر وہ پانی بھر کر لاتے اور خیمے وغیرہ لادا کرتےاور کتا ان کی پہرہ داری کرتا تھا ۔ ایک دن لومڑی آئی اور مرغ کو پکڑ کر لے گئی،گھر والوں کو اس بات کا بہت رنج ہوامگر وہ شخص نیک تھاتو اس نے کہا :”ہو سکتا ہے اسی میں بہتری ہو۔“پھر ایک دن بھیڑیا آیا اور گدھے کا پیٹ پھاڑکر اس کو مار دیا اس پر بھی گھر والے رنجیدہ ہوئے مگر اس شخص نے کہا :”ممکن ہے اسی میں بھلائی ہو۔“پھر ایک دن کتا بھی مر گیا تو اس شخص نے پھر بھی یہی کہا :”ممکن ہے اسی میں بہتری ہو۔“ابھی کچھ دن ہی گزررے تھے کہ ایک صبح انہیں معلوم  ہوا کہ ان کے اطرف میں آباد تمام لوگ قید کر لئے گئے ہیں  اورصرف یہ اہل خانہ محفوظ رہے۔حضرت سیِّدُنا مسروقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:دیگر تمام لوگ کتوں، گدھوں اور مرغوں کی آوازوں کی وجہ سے ہی پکڑے گئے۔پس تقدیرِ الٰہی کے مطابق ان کے حق میں بہتری ان جانوروں کی ہلاکت میں تھی۔
	معلوم ہواکہ  جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لُطفِ خفی کو جانتا ہے وہ ہر حال میں اس کے فعل پر راضی رہتا ہے ۔
حکایت:تکلیف پر رضا کاانعام
)12(…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو اندھا،کوڑھی،اپاہج اورمکمل فالج زدہ تھا اور جزام کی وجہ سے اس کا گوشت بھی بکھر ا ہوا تھا مگر وہ کہہ رہا تھا :”اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابۡتَلٰی بِہٖ کَثِیۡرً ا مِّنۡ خَلۡقِہٖیعنی  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بیماری سے محفوظ رکھا جس میں اس نے اپنی بہت ساری مخلوق کو مبتلا کیا ہے۔“یہ کلمات سن کر حضرت سیِّدُنا  عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے فرمایا :اےبندَۂ خدا:کونسی مصیبت ہے جس سے تو محفوظ ہے؟عرض کی :”اےروحُ اللہ! میں اس شخص سے بہتر ہوں جس کے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی وہ معرفت نہیں ڈالی جو میرے دل میں ڈالی ہے۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :تم سچ کہتے ہو،اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔پھر جیسے ہی آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کا ہاتھ پکڑا اس کا چہرہ انتہائی خوبصورت اور باقی جسم درست ہوگیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی تمام بیماریوں کو دور فرما دیا۔